محکمہ صحت اور آیوش کی خاموشی، حکومت تلنگانہ کو فوری توجہ دینے پر زور
حیدرآباد۔20۔ستمبر۔(سیاست نیوز) اردو زبان کے بعد اب طب یونانی بھی مسلمان ہوگئی !ریاست میں اردو کو نظرانداز کرنے کی شکایات کے بعد اب طب یونانی کو بھی اس انداز میں نظرانداز کیا جا رہاہے کہ اگر ’بی یو ایم ایس‘ میں داخلہ نہ ہو تو اس سے ریاست کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ ’مسلمانوں‘ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تلنگانہ میں بی یو ایم ایس اور پوسٹ گریجویشن نشستوں پر داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے باوجود ریاستی محکمہ صحت اور آیوش کی خاموشی پر مختلف گوشوں سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ میں طب یونانی کی تعلیم اپنا منفرد مقام رکھتی ہے لیکن حکومت کے سوتیلے رویہ کے سبب تاریخی یونانی میڈیکل کالج تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اگر گورنمنٹ یونانی طبی کالج چارمینار میں داخلوں کی اجازت فراہم نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ میں ’’بی یو ایم ایس ‘‘ کا وجود خطرہ میں پڑ جائے گا ۔ تلنگانہ کے حکماء اور بی یو ایم ایس کی تعلیم کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کرنے والوں نے نظامیہ یونانی طبی کالج چارمینار میں داخلوں کی اجازت فراہم نہ کئے جانے اور خامیوں اور کمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یونیورسٹی کو سفارش روانہ کئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کالج میں داخلوں کی بحالی کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو فوری مداخلت کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن ‘ وزارت آیوش نے 8ستمبر کو روانہ کردہ اپنی سفارش میں چارمینار دواخانہ اور یونانی طبی کالج میں عملہ کی قلت کے علاوہ دیگر خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ’’بی یو ایم ایس کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ‘‘ میں داخلوں کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی کو واقف کروادیا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ صحت کی جانب سے اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت کو بی یو ایم ایس اور یونانی میڈیکل کالج چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔طب یونانی کی بقاء اور بی یو ایم ایس کورس کی اہمیت میں اضافہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی سرپرستی کرتے ہوئے یونانی طریقہ علاج کی ترقی و ترویج کے لئے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس و حکماء نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے رویہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ نظامیہ یونانی طبی کالج میں داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر کلیم اللہ خان‘ ڈاکٹر شکیب ‘ ڈاکٹر زین العابدین ‘ ڈاکٹر سید توحید احمد ‘ ڈاکٹر اسمعیل کے علاوہ دیگر نے شرکت کرتے ہوئے حکومت کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کمیشن کی رپورٹ موصول ہونے کے ساتھ ہی ان خامیوں کو دور کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت ’طب یونانی‘ کو مسلسل نظرانداز کررہی ہے اور اب حالت یہ ہوچکی ہے کہ طب یونانی کی تعلیم کو بھی منظم انداز میں ختم کیا جا رہاہے۔ اجلاس میں شریک ڈاکٹرس و حکماء نے بتایا کہ جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان خامیوں کو دور کرنے کے لئے فوری طور پر محکمہ صحت کو اقدامات کرنے چاہئے لیکن محکمہ صحت کی جانب سے BUMS کورس میں داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے باوجود بھی اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاگیا ہے جو کہ حکومت کی لاپرواہی اور طب یونانی کے متعلق اختیار کردہ بے اعتنائی کا ثبوت ہے۔ اجلاس میں بی یو ایم ایس کی نشستوں پر داخلوں کی اجازت کو یقینی بنانے اور نظامیہ طبی کالج چارمینار و یونانی دواخانہ کی بقاء کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات اور ان سے نمائندگی کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کو متوجہ کروانے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور کہا جارہے کہ نظامیہ طبی کالج کے موجودہ طلبہ کو بھی اس مہم میں شامل کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے اس کالج کی بقاء کے لئے جدوجہد کو تیز کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جاریہ تعلیمی سال کے دوران BUMS میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ بھی اس مہم کا حصہ بننے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ حکومت اور محکمہ صحت کی لاپرواہی کے نتیجہ میں داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے نتیجہ میں راست BUMS میں داخلوں کے خواہشمندوں کا نقصان ہوا ہے۔3