واشنگٹن : امریکہ تائیوان پر حملے سے باز رکھنے کے لیے چین پر پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے جبکہ تائی پے کے اس سے ملتے جلتے طرزعمل سے یورپی یونین کو سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں صورت حال سے واقف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں اقدامات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں جو کہ آبنائے تائیوان پر بڑھتی کشیدگی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں کیونکہ چین کی جانب سے پڑوسی ملک پر حملے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔خیال یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پابندیاں ان اقدامات کے علاوہ ہوں گی جو پہلے ہی مغرب کی جانب سے چین کے خلاف کیے گئے ہیں جن میں چین کے ساتھ حساس ٹیکنالوجی کے حوالے سے تجارت محدود کی گئی ہے جن میں کمپیوٹر چپس اور ٹیلی کام کے دوسرے آلات شامل ہیں۔ذرائع کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت پر عائد کی جانے والی ممکنہ پابندیوں کی نوعیت کیا ہو گی تاہم ان پر عملدرآمد کی صورت میں جو حالات بن سکتے ہیں ان کے بارے میں کچھ سوال ضرور پیدا ہوئے ہیں۔