تاریخ پہ تاریخ، عدلیہ بدعنوانی سے متاثر

   

جسٹس مارکنڈے کٹجو
کپل سبل ایم پی و سینئر ایڈوکیٹ کا ایک شو ’’دل سے‘‘ بہت مقبول ہورہا ہے۔ مسٹر سبل ماضی میں مرکزی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس شو میں کپل سبل کو انٹرویو دیتے ہوئے راقم الحروف نے کہا تھا کہ ہندوستانی عدلیہ اب اصلاح سے بالاتر ہوچکی ہے۔ ہم اس سلسلہ میں صرف ایک پہلو پر غور کرسکتے ہیں اور وہ ہے مقدمات کے فیصلے صادر کرنے میں تاخیر، ملک کی عدالتوں میں ایسے مقدمات کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں ہے جو برسوں سے چل رہے ہیں لیکن طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی ان کے فیصلے صادر نہیں کئے گئے۔ ناول Bleak House میں انگریزی ناول نگار چارلس ڈکنس نے اپنے منفرد انداز میں لکھا جارنڈائس بمقابلہ جارنڈائس مقدمہ مسلسل چلتا ہی جارہا ہے۔ یہ مقدمہ وقت گذرنے کے ساتھ قدرے پیچیدہ ہوگیا ہے کہ بقید حیات کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا کہ آخر اس کا مطلب کیا ہے چنانچہ اس مقدمہ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ خود مقدمہ کے فریق بھی مقدمہ کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چانسری کے دو وکلاء یا ایڈوکیٹس بھی اس مقدمہ پر 5 منٹ تک بات نہیں کرسکتے بغیر اس کے کہ مقدمہ کی تمام بنیادوں پر مکمل اختلاف رائے پیدا ہوجائے۔ اس مقدمہ کی طوالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی سماعت کے طویل عرصہ کے دوران کئی بچے پیدا ہوئے، بے شمار نوجوان لوگوں کی شادیاں انجام پائیں اور ضعیف مرد و خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد دنیا سے رخصت ہوگئی۔ درجنوں افراد نے یہ جانے بغیر کے کیسے یا کیوں اپنے آپ کو جارنڈائس بمقابلہ جارنڈائس مقدمہ میں فریق پایا۔ سارے کے سارے خاندانوں نے اس مقدمہ کے ساتھ جڑی ہوئی موروثی دشمنی و عداوت ورثہ میں حاصل کیں۔ مدعی علیہ کے ایک چھوٹے سے بچے سے نئے جھولے والے گھوڑے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن جب تک جارنڈائس بمقابلہ جارنڈائس کا مقدمہ ختم ہونا چاہئے تھا وہ ننھا بچہ بڑا ہوچکا تھا۔ اُس نے خود اپنے طور پر ایک حقیقی گھوڑا پال لیا تھا اور دوسری دنیا کی طرف روانہ ہوگیا۔ حد تو یہ ہے کہ عدالت کے منصفانہ الفاظ ماوؤں اور دادیوں کے ذہنوں سے مٹ چکے تھے۔ چانسلروں کی ایک لمبی قطار آکر گذر چکی تھی اور اس مقدمہ کے دوران آنے والے بے شمار عدالتی اخراجات صداقتنامہ اموات Death Certificates میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ زمانہ قدیم کے جارنڈائس خاندان کے دو افراد کے علاوہ شائد ہی اس کرہ ارض پر ایسے تین افرادباقی ہوں جو چانسری لین میں کسی کافی ہاؤس میں بیٹھ کر اپنا دماغ نہ کھو بیٹھے ہوں لیکن جارنڈائس بمقابلہ جارنڈائس کا مقدمہ آج بھی عدالت کے روبرو اپنی طویل اور مایوس کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ صورتحال آج ہندوستان کی بیشتر عدالتوں میں موجود صورتحال کی عکاسی نہیں کرتی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلاء نے خود مجھے بتایا کہ سماعت کی پہلی تاریخ کے بعد اگر ایک مقدمہ کی سماعت ملتوی کی جاتی ہے مثال کے طور پر مخالف فریق یا سرکاری وکیل جواب داخل کرنا چاہتا ہو یا کسی اور وجہ سے تو اس مقدمہ کی دوبارہ فہرست میں آنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں جب تک کہ ہائی کورٹ رجسٹری میں اس کے لئے خصوصی اندراج نہ کرایا جائے۔ ممکن ہے کہ ملک کی بہت سی ہائیکورٹس میں اس طرح کی صورتحال ہو۔ ایک سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دتو کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا مقرر کئے جانے کے بعد اُنھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میںچل رہے مقدمات اندرون دو سال اور ملک بھر کی عدالتوں میں چل رہے مقدمات اندرون 5 سال مٹا دیئے جائیں گے۔ صرف جسٹس دتو نے ہی یہد عویٰ نہیں کیا بلکہ تقریباً ہر چیف جسٹس آف انڈیا نے اس طرح کے بلند بانگ دعوے کئے۔ جسٹس لودھا جو چیف جسٹس آف انڈیا کے باوقار عہدہ پر فائز رہ چکے ایک عجیب بات کہی تھی کہ زیرالتواء مقدمات کو ان کے انجام تک پہنچانے اور فیصلے صادر کرنے ججس سال میں 365 دن کام کریں گے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سارے لوگ زیرالتواء مقدمات کے فیصلے صادر کرنے سے متعلق باتیں کرتے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جب میں سپریم کورٹ کا جج تھا ایک بنچ نے جس کا میں بھی ایک رکن تھا 2007ء میں ایک مقدمہ کی سماعت کی اور وہ مقدمہ موس ولسن بمقابلہ کنتوریبا (آن لائن ملاحظہ کیجئے) تھا 1947ء میں وہ مقدمہ دائر کیا گیا تھا اس طرح مقدمہ دائر کرنے کے 60 سال بعد اس کی سماعت ہوئی جو یقینا حیرت کی بات ہے۔ ایک اور مقدمہ راجندر سنگھ (متوفی) بذریعہ ایل آر ایس و او آر ایس بمقابلہ پریم مائی (جس میں راقم نے ڈکنس کی ناول سے سطور بالا میں پیش کیا گیا قول لکھا ہے) کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے 2007ء میں سنایا جس کا میں خود ایک رکن تھا۔ آپ کو بتادوں وہ مقدمہ 1957ء میں تحت کی ایک عدالت میں دائر کیا گیا تھا اور 50 سال بعد اس کا فیصلہ صادر کیا گیا۔ واضح رہے کہ ملک بھر کی تمام عدالتوں میں فی الوقت 56.4 ملین مقدمات زیرالتواء ہیں جن میں سے 47 ملین مقدمات تحت کی عدالتوں میں، 6 ملین مقدمات ہائیکورٹس میں اور 96 ہزار مقدمات سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرالتواء ہیں (اور مابقی مقدمات قاضی جوڈیشنل ٹریبونلس میں ہیں) یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ان مقدمات میں نئے یا تازہ مقدمات دائر نہ کئے جائیں تو تمام مقدمات کے فیصلے صادر کرنے کے لئے 360 سال لگ جائیں گے۔ الہ آباد ہائیکورٹ میں جو میری سرپرست ہائیکورٹ ہے 30 سال قبل دائر کردہ فوجداری اپیلیں سماعت کے لئے آج پیش کی جارہی ہیں۔ یہ اُس عرصہ کے علاوہ ہے جو تحت کی عدالتوں میں گذرا ہے یعنی تحت کی عدالتوں میں سماعت کے لئے جو وقت لگا یہ اُس کے علاوہ ہے اور جس وکیل نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا وہ بھی فوت ہوچکا ہوگا اور ایسے فوجداری مقدمہ کا ملزم بھی اکثر فوت ہوچکا ہوتا ہے یا اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں چلتا۔ دیوانی مقدمات کا بھی یہی حال ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ممبئی ہائیکورٹ میں مقدمات 25 سال یا اس سے زائد عرصہ سے چل رہے ہیں اور وہاں کی صورتحال چارلس ڈکنس کی ناول میں پیش کئے گئے جارنڈائس بمقابلہ جارنڈائس مقدمہ کی طرح ہے یعنی مقدمہ کی سماعت کے لئے تاریخ پہ تاریخ دی جارہی ہے۔ اس طرح مقدمات کے فیصلے صادر کرنے میں غیرمعمولی تاخیر ہورہی ہے۔ ان حالات میں عدلیہ میں اصلاحات ضروری ہے لیکن مجھے اس معاملہ میں وکلاء برادری کی سنجیدگی پر شک ہے۔ شک اس بات پر ہے کہ آیا وکلاء برادری عدلیہ کے نظام میں اصلاحات سے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی یا نہیں۔ جہاں تک سپریم کورٹ ججس کا سوال ہے ان میں زیادہ تر جج صاحبان کی میعاد صرف چند سال ہوتی ہے اور ان چند برسوں میں وہ سنجیدگی سے اصلاح کی کوشش نہیں کرپاتے۔ بہرحال جو فرد عدالتی مقدمہ بازی یا عدالتی کشاکش میں پھنس جاتا ہے وہ کچھ عرصہ بعد روتا ہوا اور فریاد کرتا دکھائی دیتا ہے کیوں کہ اسے مقدمہ کی سماعت کے لئے بار بار تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے لیکن مقدمہ کی باقاعدہ سماعت نہیں ہوتی۔ جب میں خود الہ آباد ہائیکورٹ کا جج تھا اس دوران ہائیکورٹ نے یہ اُصول مقرر کیا تھا کہ تحت کی عدالتوں کے کسی بھی جج کے سامنے بہ یک وقت 300 سے زیادہ مقدمات زیرالتواء نہیں ہونے چاہئے۔ ایک مرتبہ اترپردیش کی ماتحت عدالت کے ایک جج جو سی جے ایم کانپور تھے راقم الحروف سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ ان کی عدالت میں کتنے مقدمات زیرالتواء ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ 30 ہزار مقدمات۔ ایک اور تحت کی عدالت کے جج سی جے ایم غازی آباد نے بتایا کہ ان کے سامنے 21 ہزار مقدمات زیرالتواء ہیں۔ ایک اور جج سی جے ایم بلند شہر نے بتایا کہ ان کے پاس 25 ہزار مقدمات زیرالتواء ہیں۔ میں یہاں آپ کو ایک آسان مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں کہ اگر ایک شخص 100 پاؤنڈ وزن اُٹھا سکتا ہے لیکن اس کے سر پر ایک ہاتھی بٹھادیا جائے تو کیا ہوگا؟ وہ یقینا گر پڑے گا اور ہندوستانی عدلیہ کے ساتھ بھی بالکل یہی ہوا۔ ان حالات میں ایک بیچارہ جج تاریخ پر تاریخ دینے کے علاوہ اور کیا کرسکتا ہے؟ آخر جج بھی تو انسان ہیں، کوئی مافوق الفطرت انسان تو نہیں ہیں۔ اسے کسی مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے وقت تو درکار ہوتا ہے۔ پہلے فریقین کی تحریری درخواستیں اور دلائل داخل کئے جاتے ہیں پھر دستاویزی ثبوت پیش کئے جاتے ہیں اس کے بعد زبانی شہادتیں جن میں جرح بھی شامل ہے ریکارڈ کی جاتی ہے پھر وکلاء کے دلائل کی سماعت کی جاتی ہے۔ اس عمل کے بعد جج کو ان تمام چیزوں پر غور و فکر کرنا ہوتا ہے تب کہیں جاکر ایک معیاری اور معقول فیصلہ سامنا آسکتا ہے اور یہ سب کچھ اُس بڑے پیمانہ پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کے علاوہ ہے جو ہندوستانی عدلیہ میں گہرائی سے سرائیت کرچکی ہے۔ آپ کو بتادوں کہ جب میں نے 1971ء میں الہ آباد ہائیکورٹ میں وکالت شروع کی تو ہائیکورٹ میں کوئی بدعنوان جج نہیں تھا اور شائد ہمارے ملک کی سپریم کورٹ (عدالت عظمیٰ) یا ہائیکورٹس میں بھی ایسا کوئی جج نہیں تھا یہ اور بات ہے کہ اُس وقت تک نچلی عدالتوں (تحت کی عدالتوں) میں بدعنوانی شروع ہوچکی تھی۔ آج میرا اندازہ ہے کہ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹس کے تقریباً 50 فیصد ججس بدعنوان ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر شانتی بھوشن نے 2010ء میں عدالت عظمیٰ میں ایک تحریری بیان حلفی داخل کیا تھا جس میں دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان کے سابق 16 چیف جسٹس میں سے 8 یقینی طور پر بدعنوان تھے، انھوں نے اُن کے نام بھی پیش کئے تھے۔