تازہ‘ چمکدار‘ لال سیب بنانے کے لئے باغوں میں ہورہا ہے ویاکس کا کھیل

,

   

مرکزی وزیر کو ملا ویاکس لگا سیب‘ این بی ٹی کے ریالٹی جانچ میں کاروباریوں نے کہاکہ ’منڈی میں نہیں ہوتا ایسا‘

نئی دہلی۔ مرکز وزیر رام ولا س پاسوان کوجب ویاکس لگا سیب ملا تو معاملہ گرماگیا۔

وزرات صارفین امور نے منسٹر کی ٹیم وزیر کی ہدایت پر خان مارکٹ کے آس پاس کی دوکانوں پر چھاپہ ماری شروع کردی جہا ں سے سیب خریدا گیاتھا۔د وکاندار کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی سیب آزاد پور منڈی سے لیاتھا۔شکایتانے کے بعد اس نے فوری دوکان سے پھل ہٹادئے۔

اس خبر کے آنے کے بعد این بی ٹی ٹیم نے آزاد پور پھل منڈی جاکر پھلوں پر ٹیکس لگانے کے پیچھے کی سچائی جاننے کی کوشش کی تو کئی باتوں کا انکشاف ہوا۔پھل کاروباریوں نے کابولی کی آزاد پور مارکن سے ویاکس لگے ہوئے سیب تو فروخت ہوتی‘

لیکن ان پھولوں پر ویاکس اور اسپرے لگانے کا کھیل دہلی کی منڈی میں نہیں ہوتا ہے‘ بلکہ سارا کھیل سیب کے باغ سے ہی چل رہا ہے۔

پیڑوں میں ہی لوگ سیب پر ویاکس یا اسپرے کے ذریعہ اس کام کو انجام دیا جارہا ہے۔ پندرہ دنوں میں سیب کا رنگ لال ہوجاتا ہے۔ جس کو دہلی میں ہی نہیں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی لوگ تازہ مال سمجھ کرخریدتے ہیں۔

اس کے بدلے موٹی رقم بھی ادا کرتے ہیں۔ پھولوں کے کاروباریوں کی اگر مانے تو ویاکس صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔ یہ خطرناک کمیکل سے بنتا ہے‘ وہیں کوئی ویاکس صحت کے لئے مضر نہیں ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ تر جگہوں پر کمیکل والے ویاکس کاہی استعمال ہوتا ہے۔

جو صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔دہلی اگریکلچرل مانٹیرنگ بورڈ کے ذرائع کے مطابق بتایا کہ شملہ‘ کلومنالی‘ کننور کے علاوہ کشمیر میں پیڑوں پر لگے پھل لوگوں کی مانگ کے مطابق نہیں ہوتے‘

یعنی اس کا رنگ ہرا ہوتا ہے۔ پھل توڑنے سے پانچ دن قبل سیب میں کلر لانے کے لئے باغ کے مالک کمیکل کااستعمال کرتے ہیں۔

دھیرے دھیرے یہ رنگ سیب کے اندر تک چلا جاتا ہے۔ جس سے سیب کا رنگ لال ہوجاتا ہے۔

رنگ سوکھنے کے بعد سیب کے اوپر ہہہ جم جاتی ہے‘ جو پلاسٹک کی طرح ہوجاتا ہے۔

دیکھنے میں کافی چمکدار اور لال ہوتا ہے۔ دھونے سے بھی آسانی کے ساتھ صفائی نہیں ہوتی۔ یہ سیب دھوتے وقت ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے‘ چاقو سے کھروچنے سے یہ نکل جاتا ہے۔