ان ناجائز قبضوں کو برخاست کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر کو مدھوگوڑ یشکی کا چیلنج
حیدرآباد: کانگریس کے سینئر قائد سابق رکن پارلیمنٹ مدھوگوڑ یشکی نے اویسی اسکول آف ایکسلنس تالاب میں تعمیر کرنے اور فلم اسٹار ناگرجنا کی جانب سے بھی تالاب پر قبضہ کرتے ہوئے ناگرجنا این کنونشن تعمیر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تالابوں سے ان ناجائز قبضوں کو برخاست کرنے کا حکومت کو چیلنج کیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مدھوگوڑ یشکی نے کہا کہ حکومت تالابوں اور نالوں پر تعمیر کردہ ناجائز قبضوں کو برخاست کرنے کا اعلان کررہی ہے جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔ وہ تالابوں پر ناجائز قبضوں کی نشاندہی کررہے ہیں اور چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کو چیلنج کررہے ہیں۔ ہمت ہے تو اویسی اسکول اور ناگرجنا کنونشن کا انہدام کرکے دکھائے۔ مدھوگوڑ یشکی اویسی اور ناگرجنا کو ناجائز قبضہ دار قرار دیا اور کہا کہ بارش اور سیلاب سے گریٹر حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اضلاع میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے مگر چیف منسٹر کے سی آر نے پرگتی بھون سے قدم نہیں رکھا اور نا ہی ہیلی کاپٹر سے سروے کرتے ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا ہے۔ بارش اور سیلاب سے کتنا جانی مالی نقصان ہوا، کتنے گھر منہدم ہوئے، کتنے لوگ ہلاک ہوئے اس کا ابھی تک کوئی سائنٹفک سروے نہیں کیا گیا ہے۔ بی ایچ ایم سی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ٹی آر ایس کے حامیوں میں 10 ہزار روپئے کی امداد تقسیم کی جارہی ہے۔ حقیقی متاثرین آج بھی حکومت کی امداد سے محروم ہیں۔ مدھوگوڑ یشکی نے بارش اور سیلاب کو قدرتی آفات سماوی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے راحت کاری کے کاموں کی انجام دہی کیلئے ماہرین سے صلاح و مشورہ کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا اور کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے زیادہ سے زیادہ بارش ہونے کی پیش قیاسی کرنے کے باوجود حکومت احتیاطی اقدامات کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی۔ اگر چوکسی اختیار کی جاتی تو اتنے بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصانات نہیں ہوتے تھے۔ چیف منسٹر کے سی آر کو اپنے فارم ہاؤز کے جھاڑوں سے جتنی محبت ہے اتنی محبت انسانوں سے نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی کو دیا جانے والا فنڈ کمیشن کی خاطر آبپاشی پراجکٹس کو منتقل کردینے کا بھی الزام عائد کیا۔