سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ترنمول کانگریس میں جس تیزی سے حالات تبدیل ہو رہے ہیںاور پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے اس سے یہ اندیشے لاحق ہوگئے ہیں کہ آیا بی جے پی سارے بحران کیلئے ذمہ دار تو نہیں ہے ۔ بی جے پی کو گذشتہ مہینوں میں لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بی جے پی نے حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا بل لوک سبھا میں پیش کیا تھا تاہم وہاں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ اپوزیشن کے تمام ارکان نے متحدہ طور پر حکومت کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا ۔ حالانکہ بی جے پی اس وقت تو خاموش ہوگئی تاہم اس کے بعد دو مخالف جماعتوں عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس میں پھوٹ کے ذریعہ بی جے پی شائد اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے سرگرم ہوگئی ہے ۔ سب سے پہلے عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا گیا اور راگھو چڈھا کی قیادت میں اس کے سات ارکان راجیہ سبھا سے انحراف کروایا گیا ۔ یہ تمام سات ارکان راجیہ سبھا بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب ترنمول کانگریس پارٹی کی باری دکھائی دے رہی ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد بی جے پی نے اب اس کے لوک سبھا ارکان کو نشانہ بنایا ہے ۔ ترنمول کانگریس کے تقریبا 20 ارکان پارلیمنٹ اب اپنا ایک الگ گروپ بناتے ہوئے این ڈی اے کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ اہمیت کی بات یہ ہے کہ این ڈی نے کی تائید کرنے کیلئے ترنمول کے ارکان پارلیمنٹ نے جس اجلاس میں فیصلہ کیا تھا وہ اجلاس مرکزی وزیر کی قیامگاہ پر منعقد ہوا تھا ۔ اس سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے انحراف کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ حالانکہ ابھی پارٹی میں پھوٹ نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی باضابطہ احکام جاری کئے گئے ہیںلیکن یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی مخالف جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر رہی ہے اور اس کے ذریعہ وہ اپنے سیاسی عزائم اور مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتی ہے ۔ وہ کسی بھی قیمت پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپنی عددی طاقت کو بڑھانا چاہتی ہے ۔
بی جے پی کو حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کے بل کی منظوری میں جو شکست ہوئی تھی اس میں لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی اہم رول ادا کیا تھا ۔ کانگریس کے بعد سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کی عددی طاقت لوک سبھا میں زیادہ تھی اور اسی وجہ سے بل کو شکست بھی ہوئی تھی ۔ بی جے پی کی جانب سے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب مخالف جماعتوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی پالیسی اختیار کی گئی ہے ۔ ویسے تو بی جے پی نے کئی ریاستوں میں باضابطہ اقتدار بھی پچھلے دروازے سے حاصل کیا تھا اور انحراف کی حوصلہ افزائی کی تھی تاہم اب قومی سطح پر یہ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ بی جے پی کے ایجنڈہ کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ خاص طور پر پارٹی حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کے بل کو پارلیمنٹ میں منطور کروانا چاہتی ہے ۔ اسی مقصد سے پہلے عام آدمی پارٹی کو اور پھر اب ترنمول کانگریس کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا گیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی میں انحراف کے نتیجہ میں بی جے پی کی تعداد راجیہ سبھا میں بڑھی ہے جبکہ ترنمول میں انحراف کے ذریعہ لوک سبھا میں عددی طاقت میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ترنمول کے ارکان بی جے پی میں شامل نہیں ہوئے ہیں تاہم انہوں نے این ڈی اے کی تائید کا فیصلہ کیا ہے اس سے بی جے پی کی نہ سہی لیکن این ڈی اے کی عددی طاقت میں ضرور اضافہ ہوگا اور بی جے پی اس کے ذریعہ اپنے سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے اور اسے پورا کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ انحراف کی حوصلہ افزائی کی جو پالیسی بی جے پی اختیار کر رہی ہے وہ ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔
حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کے ذریعہ بی جے پی اپنے اقتدار کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن کے انتخابی امکانات کو متاثر کرنا چاہتی ہے ۔ حلقہ جات کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے جنوبی ہند سے ناانصافی کے بھی اندیشے ہیں کیونکہ بی جے پی جنوبی ہند میں انتہائی کمزور موقف رکھتی ہے ۔ بہرحال ترنمول کانگریس میں جس تیزی سے ٹوٹ پھوٹ ہورہی ہے وہ قابل تشویش ہے اور اس کے نتیجہ میں بی جے پی کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے جو منصوبے ہیں اس سے ملک کے تمام عوام کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ایسا سیاسی کھیل کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔