ظلمت نے ڈیرہ ڈالا ہے ہر سُو تو غم نہیں
چمکاؤ اپنی عقل سے تاریک رات کو
سیاست اور انتخابی جمہوریت میں اقتدار کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔اکثر و بیشتر دیکھا جاتا ہے کہ سیاسی قائدین اقتدار کی خاطر انتخابات سے قبل پارٹیوں کو تبدیل کرلیتی ہیں یا پھر انتخابات کے بعد برسر اقتدار پارٹی کا ساتھ اختیار کرلیتے ہیں۔ ہندوستان میں اس طرح کی روایات بہت زیادہ دیکھنے میں آتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی قائدین کو پارٹی نظریات سے یا اس کے پروگراموں سے کوئی دلچسپی نہیںہوتی بلکہ وہ محض اقتدار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور ایک سے زائد مرتبہ پارٹیاں تبدیل کرنا ان کیلئے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی ۔ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ غیر متوقع تو نہیں کہی جاسکتی تاہم جو حال ترنمول کانگریس کا ہوا ہے یا کیا جا رہا ہے اس کی بھی کسی کو توقع نہیں تھی ۔ یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ ترنمول کو اقتدار سے محرومی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تاہم کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ترنمول کانگریس کا وجودہی خطرہ میں پڑ جائے گا اور پاری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی ۔ ترنمول سربراہ ممتابنرجی کا دعوی ہے کہ ترنمول کانگریس کو اندر سے توڑنے کیلئے کچھ مفادات حاصلہ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ارکان اسمبلی کو دھمکایا جا رہا ہے اور انہیں پارٹی اجلاسوں میںشرکت تک کرنے سے روکا جا رہا ہے ۔ بی جے پی پر انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جمہوریت کو دفن کرنے کے در پہ آگئی ہے اور وہ ترنمول کانگریس کا صفایا کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی اس طرح کے الزامات کی تردید کرتی ہے تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بنگال کی سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بی جے پی کے اشاروں پر ہی ہو رہا ہے ۔ بی جے پی اگر ترنمول کانگریس کا صفایا نہیں کرنا چاہتی تو اتنا ضرور ہے کہ وہ ترنمول کو بالکل کمزور اور بے اثر کردینا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ جتنے بھی ترنمول کانگریس کے ارکان اسمبلی ہیں وہ گروپ بندیوں کا شکار ہوجائیں۔ الگ الگ گروپس کو اپنی مرضی کے مطابق توڑنا یا ان کو اپنے ساتھ ملانا بی جے پی کیلئے آسان ہوجائے گا ۔ اسی وجہ سے بی جے پی در پردہ ترنمول کانگریس کو ممکنہ حد تک کمزور کرنے سرگرم دکھائی دیتی ہے ۔
مغربی بنگال اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے عہدہ کیلئے جس طرح سے ترنمول کانگریس میں دو گروپس بن گئے ہیں اور ایک باغی گروپ دعوی کر رہا ہے کہ ترنمول کے 50 ارکان اسمبلی کی اسے تائید حاصل ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر مستحکم ہوتا ہے کہ ممتابنرجی کو بے یار و مددگار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ جو ارکان اسمبلی ممتابنرجی سے بغاوت کرتے ہوئے باغی گروپ کا حصہ بن رہے ہیں وہ اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ انتقامی سیاست سے بچنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے یا پھر بنگال کی سڑکوں پر ان پر بھی حملے کئے جائیں۔ ان کے خلاف بھی نعرہ بازی ہو اور عوام میں ان کی امیج متاثر ہو کر رہ جائے ۔ تین معیادوں تک برسر اقتدار رہنے کے بعد ترنمول کی صفوں میں جو انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ تاش کے پتوں کی طرح ہے ۔ اس کے ارکان اسمبلی بکھر نے لگے ہیں اور ممتابنرجی صورتحال کو صرف دیکھنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ اپنے ہی ارکان اسمبلی پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ انتخابی سیاست کے جو نتائج رہے تھے وہ اپنی جگہ ہیں تاہم جس طرح سے ترنمول کانگریس میں توڑ پھوڑ شروع ہوگئی ہے اور ارکان اسمبلی جس طرح سے بکھرنے لگے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشے بھی بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ ترنمول کے ارکان پارلیمنٹ بھی آئندہ دنوں میں اپنی وفاداریاں تبدیل کرسکتے ہیں اور وہ بی جے پی کا دامن تھام سکتے ہیں۔
جہاں تک ممتابنرجی کی بات ہے تو یہ دعوی سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ آسانی سے ہار ماننے والی نہیں ہیں۔ وہ صفر سے شروع ہوئی تھیں۔ کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد انہوں نے جس طرح سے سارے بنگال میں ماحول تیار کیا تھا اور ترنمول کانگریس کو اقتدار تک پہونچادیا تھا وہ اپنی مثال آپ تھا ۔ اب بھی ممتابنرجی کوا سی طرح کی شروعات کرنی پڑسکتی ہے ۔ آئندہ چند ماہ ابھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہے گا اور جب گرد جم جائے گی تو پھر ممتابنرجی کو پارٹی کو دوبارہ مستحکم کرنے کا سفر شروع کرنا ہوگا ۔ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کا ممتابنرجی کس طرح سے سامنا کرپاتی ہیں۔