’ترنمول کانگریس کیلئے سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند‘

,

   

بی جے پی نے عرضی خارج کئے جانے کو ترنمول کے ارادوں پر سنگین سوال قرار دیا

نئی دہلی 2مئی (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے ترنمول کانگریس کی عرضی خارج کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاسی اور اخلاقی نقطہ نظر سے مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی (ترنمول) کے ارادوں پر سنگین سوالیہ نشان قرار دیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران مبصر کے طور پر مرکزی حکومت اور پبلک سیکٹر اداروں کے ملازمین کی تعیناتی کے الیکشن کمیشن کے حکم کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ترنمول کی عرضی کو خارج کر دیا اور انتخابی عمل میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے صاف انکار کر دیا۔ترویدی نے کہاکہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شری رام للا کے خلاف بابری مسجد کا کیس لڑنے والے اور تمام دہشت گردوں کے تئیں ہمدردی رکھنے والے نیز ترنمول کانگریس سے سیاسی طور پر مغلوب رہنے والے مسٹر کپل سبل کی عرضی آج پوری طرح سے خارج کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج کا سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی طور پر درست ہے ۔ سیاسی اور اخلاقی نقطہ نظر سے یہ ترنمول کانگریس کے ارادوں پر ایک گہرا اور سنگین سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔ انہوں نے ترنمول کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مرکزی حکومت کے ملازمین پر بھروسہ نہیں ہے ، لیکن ریاست کے ملازمین پر بھروسہ ہے ۔ اس لیے ، میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج بھروسے کا سوال خود آپ پر ہے ۔ جب آئی پیک پر چھاپہ پڑا، تو یہ پہلی بار تھا جب کوئی وزیر اعلیٰ خود موقع پر پہنچیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی ہی پولیس اور اپنی ہی ریاستی ایجنسیوں پر بھروسہ نہیں تھا، اسی لیے وہ خود وہاں اندر گئیں۔اس دوران انہوں نے انڈیا اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میرا انڈیا اتحاد سے ایک سوال ہے اور ملک کے عوام کو اس مسئلے پر ضرور توجہ دینی چاہیے ۔ اگر انتخابات پرامن ماحول میں بغیر کسی تشدد یا قتل کے ہو رہے ہیں اور پھر بھی ان پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، تو اس سے کئی اہم سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا نہ صرف آپ کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے ، بلکہ آئینی نظام میں آپ کے بھروسے پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے ، اور یہ بھی اشارہ دیتا ہے کہ آپ اس کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ سے ترنمول کانگریس کو جھٹکا،
عرضی پرکوئی حکم جاری نہیں ہوا
نئی دہلی 2 مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے ترنمول کانگریس کی اس عرضی پر کوئی بھی حکم دینے سے ہفتہ کو انکار کر دیا جس میں مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے دوران مرکزی حکومت اور مرکزی پبلک سیکٹر کے ملازمین کو تعینات کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ترنمول کانگریس نے اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا لیکن عدالت نے اس کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ گنتی کے عملے کا تقرر کرنا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔ عدالت عظمیٰ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے مالیا باغچی کی بنچ نے ترنمول کانگریس اور الیکشن کمیشن کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ اس معاملے میں کوئی حکم دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف الیکشن کمیشن کے وکیل کا یہ بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن گزشتہ 13 اپریل کو جاری کردہ سرکلر پر مکمل عمل درآمد کرے گا۔