ترکیہ کا 15 کرد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

   

استنبول: ترکیہ نے کہا ہے کہ اس نے شمالی شام میں 13 اور عراق میں دو کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے ۔ جب سے گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے ، انقرہ نے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی مہم تیز کردی ہے ۔ ان میں سے کچھ عسکریت پسندوں کا تعلق امریکی اتحادیوں سے ہو سکتا ہے ۔ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے شام میں جن کرد جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے اُن کا تعلق کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) اور مسلح شامی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) سے ہے ۔شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان فرہاد الشامی نے منگل کوبتایا کہ شمالی اور شمال مشرقی شام کے علاقوں پر ترک کی گولہ باری میں دو دنوں میں کم از کم 12 شہری مارے گئے ۔ شمالی شام میں ترکیہ اور کرد جنگجوؤں کے درمیان دو ماہ سے مسلسل لڑائی جاری ہے ۔الشامی نے کہا کہ ترک ڈرونز نے منگل کے روز صوبہ حلب کے قصبے سرین میں ایک مشہور بازار پر بمباری کی، جس میںچھ شہری ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ۔ الشامی نے مزید کہا کہ ترک توپ خانے کی گولہ باری میں منگل کو تین شہری ہلاک اور تین شہری زخمی ہوئے ۔واشنگٹن پی کے کے پر پابندی لگاتا ہے اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے لیکن داعش کے خلاف مہم میں شام میں وائی پی جی کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔ترکی نے طویل عرصے سے واشنگٹن سے YPG کی حمایت واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور اس نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ صدر جو بائیڈن کی سابقہ انتظامیہ سے وراثت میں ملنے والی پالیسی پر نظرثانی کریں گے ۔