تشکیل تلنگانہ کے بعد مسلمانوں کے سنہرے دور کا آغاز

   

7 سال کے دوران اقلیتوں کے فلاح و بہبود پر 6644.26 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ، محمد محمود علی
حیدرآباد /25 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ہی مسلمانوں کے سنہرے دور کا آغاز ہوا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کی تعلیمی معاشی سماجی ترقی کے معاملے میں عہد کے پابند ہے۔ ان 7 سال کے دوران اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے نظیر نہیں ملتی ۔ ٹی آر ایس کے پلینری سیشن میں خطاب کرتے ہوئے محمد محمود علی نے نویں مرتبہ بلامقابلہ صدر منتخب ہونے پر چیف منسٹر کے سی آر کو مبارکباد پیش کی اور چیف منسٹر کو تلنگانہ کا مہاتما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گاندھی جی کے طرز پر تشدد سے پاک تحریک فلائی اور 14 سال میں علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرلیا اور تلنگانہ کو سنہرے ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے بحیثیت چیف منسٹر جو کام کر رہے ہیں وہ ملک کیلئے مثالی ہے ۔ حکومت نے جاریہ سال 2021-22 میں اقلیتوں کیلئے بجٹ میں 1606.39 کروڑ روپئے کی منظوری دی جس میں ابھی تک 765.31 کروڑ روپئے جاری کردئے گئے ۔ گذشتہ 7 سال کے دوران اقلیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے 6644.26 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ جبکہ کانگریس کے دور حکومت میں 10 سال کے دوران اقلیتوں پر صرف 925 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے ریاست میں 204 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے ۔ جس میں 1,14,440 طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ 2235 اقلیتی طلبہ کو 332.29 کروڑ روپئے اوورسیز اسکالرشپس جاری کی گئی ۔ 500اقلیتی طلبہ کی آئی اے ایس آبی پی ایس کورسیس کی ٹیوشین فیس 12.53 کروڑ روپئے جاری کی گئی ۔ 9,23,704 اقلیتی طلبہ کیلئے 389 کروڑ روپئے کی فیس ریمبریسمنٹ جاری کی گئی ۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت 1,95,825 لڑکیوں کی شادیوں کیلئے 1,534.16 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ مساجد کے آئمہ موذنین کیلئے 293.59 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست کے تمام اضلاع میں ا ردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے ۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ن