بی سی ای زمرہ میں اپنی ذات اورشناخت کو درج کروانے ڈاکٹر یوسف حامدی کی اپیل
حیدرآباد ۔ 6 ؍ نومبر۔ (پریس نوٹ) نائب صدر کل ہند مجلس تعمیرملت ڈاکٹر یوسف حامدی نے ریاست میں تمام طبقات کی سماجی ، معاشی ، تعلیمی اور سیاسی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے مردم شماری کروانے حکومت تلنگانہ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے جس کا آغاز 6 نومبر سے ہوا ہے جو30 نومبر تک جاری رہے گی۔انہوں نے اقلیتی طبقات خاص کر مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے جانے والے ذات پات پر مبنی جامع سروے میں حصہ لیتے ہوئے اپنی ذات اورشناخت کو درج کروائیں اور کہا کہ معمولی غفلت مسلمانوں کی شناخت کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کے تحت سرکاری اسکیمات میں موثر حصہ داری کو یقینی بنانے کیلئے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مردم شماری میں حصہ لیتے ہوئے اپنا نام بی سی ای میں درج کروائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ا کثریت سماجی و معاشی طور پر پسماندگی کا شکار ہے ۔تلنگانہ حکومت کی جانب سے مردم شماری کا فیصلہ مسلمانوں کیلئے ایک بہترین موقع ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی پسماندگی کو ثابت کرکے فلاحی اسکیمات سے استفادہ کرنے کیلئے اپنی حصہ داری کویقینی بناسکتے ہیں۔ انہوںنے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ شمار کنندگان کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے اپنی تمام تفصیلات کوبلا جھجک درج کروائیں اوروہ اپنے نام کواس زمرہ میں شامل کریں جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ناموں کو بی سی ای زمرہ میں شامل کریں تاکہ تلنگانہ میں مسلمانوںکی حقیقی آبادی کے علاوہ ان کی پسماندگی کا اندازہ ہوسکے۔ انہوں نے محلہ واری سطح پر قائم شدہ فلاحی و رضاکارانہ تنظیموں خاص کر مساجد و مدارس کمیٹیوں اورمتولی صاحبان پر زور دیا کہ وہ عوام میں شعور بیداری کیلئے مساجد و مدارس کے علاوہ شادی خانوں و محلہ واری کمیونٹی ہالس میں پروگرامس منعقد کریںتاکہ کوئی بھی مسلم خاندان اس مردم شماری سے محروم نہ رہے کیوںکہ حکومت سروے اور مردم شماری کی بنیاد پر ہی تمام طبقات کو فلاحی اسکیمات اور بجٹ میں حصہ داری کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے ایسے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگربی سی کے کسی بھی زمرہ میں شامل نہیں ہیں تو اپنا نام بی سی ای زمرہ میں ہی درج کروائیں تاکہ تعلیم اور ملازمت میں نوجوانوں کو موثر نمائندگی کا موقع مل سکے اورکہا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی مجموعی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے مردم شماری ایک بہترین موقع ہے جس سے تمام مسلمانوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔