ڈاکٹر محمد سراج الرحمن
قابل مبارکباد ہے امت کا وہ طبقہ جس نے اپنی اولاد اور نئی نسل کی دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی تربیت اور ایمان و یقین کی دولت کو مقدم رکھتے ہوئے مسلسل ان کی نگرانی کی اور دینی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے متواتر اقدامات کو موثر فکر بنایا جیسا کہ بتایا گیا ہے ؎
قوت فکر و عمل پہلے فناہ ہوتی ہے
جب کسی قوم کی شوکت کو زوال آتا ہے
یہ حقیقی تجربہ اور تلخ حقیقت ہے کہ اکثر امت کا طبقہ خاطر خواہ فیصد والدین کو اپنی اولاد اپنے ہی لخت جگر جن کے جسم میں خود والدین کا خون دوڑ رہا ہے کی صبح جب اسکول کے اسمبلی سے ہوتی ہے جو والدین کی ماں صبح جلد بیدار ہوکر کھانا کھلاتی ہے، توشہ، بیاگ تیار کرکے اسکول ڈریس زیب تن کرکے بہترین سواری کے ذریعہ یا اسکول کالج بھیجتی ہے یا والد خود سواری پر بیٹھاکر بڑی دوڑ دھوپ کرتے ہوئے اسکول پہنچاتا ہے، بچے کو وقت پر اسکول پہنچانے اپنے آرام کو قربان کرتا ہے، جب معصوم بچہ یا نوجوان اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اسمبلی کروائی جاتی ہے جہاں تہمارے اپنے بچے کو کلمہ گو اولاد کو شرکیہ کلمات، سوریہ نمسکار، گیتا کے پاٹھ، وندے ماترم، اؤلارڈ اور پربھو کے الفاظ سے اس کی ابتداء ہوتی ہے۔یعنی کلمہ گو ماں کی کوک سے پیدا ہونے والی اولاد کو صبح، سال کے 10 مہینے، شرکیہ کلمات سے ادا کرنے والے طلبہ کے ماں باپ نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔
جس بچے کی صبح کا آغاز، نماز اور قرآنی تعلیم سے ہونا چاہئے جس بچے کو تربیت دین کی ترغیب دین کی تعلیم کے لئے فرمان ہے بچہ 7 سال کا ہو جائے تو اس کو نماز کی عادت ڈالو 10 سالہ بچہ اگر نماز کا اہتمام نہیں کرتا تو اس کو تنبیہہ کرو، ضرب لگاؤ لیکن افسوس کہ ماں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی، نہ باپ کے پیشانی پر بچہ نماز ادا نہ کرتا ہے تو کوئی بل آتا ہے۔ سالوں بچے کی صبح ان شرکیہ کلمات سے ہوتی ہے تو اثر یہ ہو جاتا ہے، جانے انجانے میں تنہائی میں کبھی مجمع میں یہ کلمات دوہرانے لگتے ہیں، جو فطرت انسانی ہے جو کوئی الفاظ مسلسل خصوصاً صبح کی ساعتوں میں پڑھائے جاتے ہیں یہ دماغ میں داخل ہوکر جز بن جاتے ہیں ستم یہ ہے کہ بچے کو اندر سے غیر عقلی دین کو محبت اور رغبت ہوتی جارہی ہے اور اس کا ایمان، اللہ کی ذات عالی پر یقین، پیغمبر اسلام ؐ کی تعلیمات سے بے رغبتی یعنی دین سے دوری ، دین بیزار، مغربی کلچر کا دلدادہ، موسیقی بے راہ روی، بے حیائی، کمپاؤنڈ کلچر، سیکولرازم کے لیبل لگاکر مذہب بیزاری کا شکار ہو رہی ہے۔ حتی کہ ماں باپ کو دنیوی تعلیم سے محبت، بچوں کو جھوٹ کا عادی، ماں باپ کا نافرمان اور سوسائٹی، سماج میں اس کے شرکیہ کرتوت ماں باپ کو رسوا کررہے ہیں۔ مدد الٰہی، نصرت الٰہی سے عاری زندگی وبال جان بن کر لوگوں کے سامنے تماشہ آخرت میں غضب الٰہی کا باعث بنے گی۔اس کا مجموعی انجام یہ نتیجہ لے کر ابھر رہا ہے۔ امت کے نئی نسل کی معاشرتی برائیوں کا بنیاد بن رہی ہے جس میں خاص 12 سے 16 سال کے عمر کے بچوں، طلباء کا طبقہ کا یہ حال ہے جو ماں باپ کے لئے درد سر اور منشیات کا، ڈرگس کا عادی بنا دیا ہے جو نہ صرف امت مسلمہ بلکہ انسانیت کے لئے دیمک، ناسور بنا دیا ہے۔ اب بھی وقت ہے ہمیں سنبھلنے کا، انجانے میں ہوئی غلطیوں کے ازالہ کا اس کے لئے انفرادی، شخصی اور اجتماعی جستجو، جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہوش و ہواس اور سنجیدگی سے حکمت دانائی اور حاضر دماغی سے کام کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنین، محسنین کی محنت کو ضائع نہیں فرماتا۔
یہ کاہلی، نااہلی ابلنے والے دودھ کی طرح ہے صرف وقتیہ پانی چھڑکنے سے یہ دین سے دوری، دین بیزاری، دنیاداری دور نہیں ہوگی، بلکہ جیسے چند پانی کے قطروں سے دودھ ابلنا رک جاتا ہے اور آگ کی دوبارہ گرمی اس دودھ کو ابالتی ہے تو ہمیں بے دینی، بددینی والی آگ کو جو بار بار ایمانیات پر حملہ کرتی ہے بچوں کی دینی تربیت میں کوتاہی، لاپرواہی، پہلوتہی، جس سے ایمان کے لالے پڑ رہے ہیں ہمیں ہوش کے ناخن، لینا چاہئے اور نونہالوں کو ایمان تریاق پلاتا ہے اب جو صرف 2 مہینے بچوں کو گرمائی تعطیلات ملتی ہیں ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا، یہ دو مہینے گرمائی چھٹیوں میں مختلف تنظیمیں، مساجد، مدارس، سمر اسلامک کلاسیس چلانے کا بہترین کام انجام دے رہے ہیں، والدین، ذمہ داران، گھر کی کفالت کرنے والے ان اسکولوں پر جتنا وقت، سرمایہ، صلاحیتیں، خرچ کرتے ہیں اس کا 10 فیصد ان دو ماہ میں دینی تربیت، دینی تعلیم، اسلامی ماحول میں لگائیں تو بچوں کی ایمان کی چنگاری جگمگائے گی، جب یہ توحید و رسالت کی روشنی کا چراغ لے کر آگے بڑھے گا دنیا کی ہر نعمت حاصل کرے گا۔ ہر مصیبت میں مدد الٰہی کا امیدوار بنے گا۔
جس طرح زندگی کے لئے ہوا، پانی، غذا کی ضرورت ہے، اسی طرح مسلمان نسل کو ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے لئے دینی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے اولاد کی روح کو دین کے مضبوط قلعہ میں محفوظ کردو جب ایمان کا قلعہ مضبوط ہو جائے کتنے بھی لادینی کے سیلاب آئیں، زلزلے آئیں، قحط سالی ہو جائے، طوفان برپا ہو جائے کوئی بھی باطل طاقتیں سازشیں، منصوبے، حربے ایمان کی لافانی ابدی طاقت کے سامنے ٹک نہیں سکتے۔ تمہاری رزق میں برکت ہوگی، یہاں تک کہ اقتدار کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں دیدی جائے گی۔ پھر یہ ملک تمہارا یہ شہر تمہارا ہوگا۔
آج والدین سے یہ مطالبہ نہیں کہ پوری زندگی محض دینداری میں گذاردیں نہ ہی تم ایسا کرپاوگے، ترک دنیا کا درس، رہبانیت کی اسلام اجازت نہیں دیتا ہمیں موٹے موٹے دینی کتب پڑھنے زندگی گذارنے کی تاکید نہیں کی جارہی ہے بس حقیقی اسلامی طریقہ جسے دیکھ کر لوگوں کو اللہ یاد آجائے، برادران وطن یہ دیکھ کر اسلام کو طرف مائل ہوں، اسلام کی نفرت ان کے دل سے نکل جائے۔ ہماری اولاد اللہ کی طاقت جانے، جان لیں کہ مقصد حیات کیا ہے۔ کیا چاہتا ہے خالق کائنات، قبل اس کے کہ ہم سے زندگی، صحت، مال، وقت چھین لیا جائے۔ اپنی اولاد کو دین دار بناکر آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی سنوارنے کا ذریعہ بنانا ہے۔ باپ اپنی اولاد کو جو تربیت دیتا ہے وہ بہترین تحفہ آخرت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پیغمبر اسلام ؐ کے مشن کو عام کرنے کی ہمیں توفیق طاقت عطا فرمائے ۔ آمین