19 محکمہ جات کے مطالبات زر کی منظوری تک صبح 3 بج گئے، اسپیکر کی تھکادینے والی ذمہ داری
حیدرآباد۔/30 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے 17 گھنٹے 15 منٹ تک کارروائی کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش اور علحدہ تلنگانہ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے شروع ہوا اور رات دیر گئے 3 بجکر 15 منٹ تک جاری رہا۔ قانون ساز اسمبلی میں 19 محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث اور متعلقہ وزراء کی جانب سے مباحث کا جواب دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ 17 گھنٹوں میں اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار نے کرسی صدارت پر زیادہ وقت گذارا۔ پینل اسپیکرس کی خدمات محدود وقت کیلئے استعمال کی گئیں۔ مطالبات زر پر مباحث کا کل پہلا دن تھا اور اسپیکر نے وقفہ سوالات منسوخ کرتے ہوئے صبح 10 بجے مطالبات زر پر مباحث کا آغاز کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے بیشتر ارکان نے 19 محکمہ جات کے مطالبات زر پر تقاریر کیں۔ ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث دیکھی گئی۔ اسپیکر نے پہلے دن تمام مطالبات زر پر مباحث اور ان کے جواب کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ رات تقریباً ایک بجے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے محکمہ برقی کے مطالبات زر پر مباحث کا جواب دیا۔ وزیر صحت دامودر راج نرسمہا، وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو، وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور دیگر وزراء کے جوابات کی تکمیل تک رات 3 بج گئے۔ اپوزیشن کی جانب سے ہریش راؤ اور جگدیش ریڈی نے وزراء سے وضاحتیں طلب کیں اور مطالبات زر میں اپنی ترمیمات کو شامل کرنے پر زور دیا۔ ہریش راؤ نے وزراء کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنا احتجاج بھی درج کرایا۔ رات ایک بجے سے 3 بجے تک ایوان میں وزراء اور ارکان کی تعداد کافی کم دیکھی گئی۔ وزراء کے جوابات اور مطالبات زر کی مرحلہ وار منظوری تک صبح تین بجے 15 منٹ کا وقت ہوچکا تھا۔ اسپیکر نے صبح 10 بجے دوبارہ اجلاس کا اعلان کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کی۔ آج صبح جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اسپیکر جی پرساد کمار نے کہا کہ 17 گھنٹے طویل اجلاس کے باوجود وزراء اور ارکان نے جو تعاون کیا اس کیلئے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ اسپیکر اور کئی وزراء مختصر آرام کے بعد دوبارہ اسمبلی پہنچ گئے۔ رات 3 بجے تک ایوان میں موجود ارکان آج دوپہر تک غیر حاضر تھے۔1