تلنگانہ اور آندھراپردیش کے جعلی ڈاکٹرس کے خلاف سی بی آئی کی مہم

   

91 مقامات پر دھاوے،خلیجی ممالک سے جعلی دستاویزات کے ساتھ خدمات کا انکشاف
حیدرآباد ۔30 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) سی بی آئی دونوں تلگو ریاستوں میں جعلی دستاویزات کے ساتھ خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں 91 مقامات پر دھاوے کئے گئے تاکہ فارن میڈیکل گریجویٹ امتحان کے فرضی دستاویزات کے ساتھ میڈیکل کونسل آف انڈیا اور اسٹیٹ میڈیکل کونسل نے رجسٹر کرانے کے معاملہ کو بے نقاب کیا جاسکے۔ سی بی آئی تقریباً 73 میڈیکل اسٹوڈنٹس کی جانچ کر رہی ہے جن میں 6 کا تعلق تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے ہے۔ ان طلبہ نے یوکرین ، چین اور نیپال میں 2011-22 کے درمیان میڈیسن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ بتایا جاتاہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے 6 فرضی ڈاکٹرس خلیجی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کیرالا اور بعض دیگر مقامات پر جعلی ڈاکٹرس کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جن 6 فرضی ڈاکٹرس کی نشاندہی کی گئی ، ان میں جی راکیش کمار (قاضی پیٹ) ، ایس سرینواس راؤ (چیوڑلہ) ، محمد فصیح الدین (ورنگل) اور بی ہری کرشنا ریڈی (لنگم پلی) کا تعلق تلنگانہ سے ہے جبکہ ایم شرد بابو (وجئے واڑہ) اور جی وینکٹ راجا ومشی کا تعلق وشاکھاپٹنم سے ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق جعلی میڈیکل گریجویٹ کی تفصیلات سی بی آئی کے حوالے کی گئی ہے۔ وزارت صحت کی شکایت پر سی بی آئی نے کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ فارن میڈیکل گریجویٹس امتحان کے بغیر ہی جھوٹے دستاویزات کے ذریعہ ان میڈیکل اسٹوڈنٹس نے خود کو میڈیکل کونسل آف انڈیا میں رجسٹرڈ کرایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیوڑلہ سے تعلق رکھنے والا فرضی ڈاکٹر دبئی میں خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ وجئے واڑہ کا طالب علم کوچی میں پایا گیا۔ سی بی آئی نے ورنگل ، وجئے واڑہ ، وشاکھاپٹنم اور دہلی میں 91 مقامات پر دھاوے کئے ۔ ہندوستان کے باہر میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ملک میں فارن میڈیکل گریجویٹ انجنیئرس کا امتحان لکھنا لازمی ہوتا ہے۔ ر