تلنگانہ بلدی انتخابی نتائج، بی جے پی کو بڑا دھچکا

   

حیدرآباد ۔14 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے شہری علاقوں میں مضبوط کارکردگی کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کو بلدی انتخابات میں غیرمتوقع اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ 116 بلدیات میں بی جے پی کو صرف 2 مقامات پر ہی واضح سبقت حاصل کرسکی جبکہ مجموعی طور پر 2996 وارڈس میں بی جے پی کو 335 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ پارٹی کسی بھی میونسپل کارپوریشن میں مکمل اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اگرچہ کہ کریم نگر میں آزاد امیدواروں کی حمایت سے میئر کی کرسی حاصل کرنے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ تاہم نظام آباد میں صورتحال اب بھی غیرواضح ہے۔ ریاست کے 123 بلدیات و کارپوریشنس کے بلدی انتخابات میں بی جے پی نے 78 مقامات پر ہی اپنا کھاتہ کھولا جبکہ 45 بلدیات میں ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔ خاص طور پر جنوبی تلنگانہ اور ضلع کھمم میں پارٹی کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلع کھمم کے 5 بلدیات ایڈولاپورم، کلورو، مدھیرا، ستوپلی اور ویرا میں بی جے پی ایک بھی وارڈ جیتنے میں ناکام رہی۔ اس طرح ضلع سوریہ پیٹ کے کئی مقامات میں بھی پارٹی کا کھاتہ نہیں کھل سکا۔ یہاں تک کوڑنگل میونسپلٹی جس کی نمائندگی چیف منسٹر ریونت ریڈی کرتے ہیں، وہاں بی جے پی صفر پر رہی ہے۔ 5 بلدیات میں بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے مگر چیرمین کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کو باغی، آزاد یا دوسری جماعتوں کے امیدواروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ بلدیاتی انتخابات سے قبل بی جے پی نے ڈبل ڈیجیٹ میں چیرمین اور میئرس کے عہدے حاصل کرنے اور فورتھ ڈیجیٹ میں وارڈس حاصل کرنے کا حدف مقرر کیا تھا مگر نتائج توقعات سے کہیں کم رہے ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے محبوب نگر کارپوریشن میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا مگر بی جے پی تیسرے مقام تک محدود رہی۔ اس طرح مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے کاغذنگر میونسپلٹی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا جہاں بھی بی جے پی تیسرے نمبر پر رہی۔ واضح رہیکہ 2020ء کے بلدی انتخابات میں بی جے پی نے 120 بلدیات میں 237 وارڈس اور 10 کارپوریشنس میں 78 ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار اگرچہ کہ بی جے پی 335 نشستیں حاصل کی مگر کسی بھی بلدیہ پر مکمل قبضہ نہیں کیا جس سے کیڈر میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ بی جے پی نے شہری علاقوں میں متبادل طاقت بننے کا جو نشانہ مختص کیا ہے اس کو بلدیاتی نتائج نے بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔2