اتسری گپتا بھایا
ہندوستان بھر میں جنوبی ہند کی دو ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان ترقی کے شعبہ میں جاری مسابقت پر بہت گہری نظر رکھی جارہی ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش ہورہی ہے کہ متحدہ آندھرا پردیش سے علیحدگی کے باوجود وجود میں آنے والی ریاست تلنگانہ جس کی عمر صرف 12 سال ہے یعنی وہ ملک کی سب سے کم عمر ریاست ہے اس نے کیسے خود کو ترقی پر گامزن کیا ہے؟ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے بارے میں بہت خوب کہا تھا کہ ایک معصوم لڑکی کی شادی ایک شرارتی لڑکے کے ساتھ کی جارہی ہے۔ اگر سب ٹھیک رہا تو وہ ساتھ رہیں گے۔ ایک ساتھ زندگی گزاریں گے نہیں تو وہ طلاق لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تاریخی ریمارک پنڈت جواہر لال نہرو نے 1956ء میں دو ریاستوں کے انضمام کے بارے میں کیا تھا۔ سماجی و اقتصادی بنیادوں پر برسوں لڑنے کے بعد بالآخر انہیں علیحدہ ہونا پڑا۔ آج دونوں ریاستیں زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کو کڑی ٹکر دے رہے ہیں لیکن پچھلے تین برسوں سے ایک ریاست دوسری ریاست سے بہت زیادہ اور تیزی سے مضبوط ہورہی ہے۔ اور وہ ریاست تلنگانہ ہے جو ریاست جو آندھراپردیش کو زبردست ٹکر دے رہی ہے ۔ ہندوستان کی تمام ریاستوں میں آندھرا پردیش آٹھویں اور تلنگانہ 9 ویں مقام پر ہے لیکن ان میں سے ایک کی فی کس اوسط آمدنی یا PerCapita انکم ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ زیادہ ہے اور دوسری ریاست آج اپنی دارالحکومت کی تعمیر صفر سے کررہی ہے۔ اپنی سب سے نئی نجی سونے کی کانوں کے ساتھ جو ملک کی پہلی نجی سونے کی کان ہے۔ ہماری مراد امراوتی سے ہے۔ حکومت آندھرا پردیش امراوتی کو اپنے دارالحکومت کے طور پر غیرمعمولی انداز میں فروغ دے رہی ہے۔ ایک ریاست نے پوری طرح سے آئی ٹی فارما اور خدمات پر توجہ مرکوز کی تو دوسری ریاست بندرگاہوں، ڈیٹا سنٹروں، مینوفیکچرنگ یونٹس اور سونے کی کانوں پر زور لگا رہی ہے۔ 2014ء میں ان دو ریاستوں کے الگ ہونے کے بعد ہم پوچھتے ہیں کہ تمام وسائل کو بانٹنے سے ہر دو مضبوط ہوئے یا پھر مسائل کو آدھا آدھا بانٹنے جیسا ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں ریاستوں میں کون زیادہ قرض میں ڈوبی ہوئی ہے۔ کون زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ اندرون ملک سرمایہ کاروں کو راغب کررہی ہے؟ کون سی ریاست تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اپنے دستیاب وسائل کا کس خوبی سے استعمال کررہی ہے۔ کون زیادہ آمدنی کی حامل ریاست ہے۔ ہم یہی دیکھیں گے کہ حقیقت میں ان دونوں ریاستوں میں سے کون سی ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ سونے کی کانیں، ڈیٹا سنٹرس، دارالحکومتوں میں ترقی، غرض ہر شعبہ میں ان ریاستوں کی ترقی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ سمجھنے کیلئے کہ وہ (دونوں ریاستیں الگ کیوں ہوئیں، ہمیں 1956ء میں واپس جانا ہوگا) جب انہیں پہلی بار ملایا گیا تھا، اس وقت دو علاقہ ایک ہوگئے، ساحلی آندھرا اور رائلسیما جو بہتر طریقہ سے جڑے ہوئے تھے اور انگریز سامراج نے ان پو خصوصی توجہ مرکوز کی تھی اور دوسری طرف تلنگانہ جس پر صدیوں تک آصف جاہی حکمرانوں کی حکمران رہی۔ اس پر آصف جاہ سلطنت برسوں حکمرانی کرتی رہی اور انگریزوں سے اس حکومت کا اتحاد بھی تھا جہاں کی سرکاری زبان اُردو تھی اور ہندوستان میں صنعت و حرفت اور تجارت کیلئے مشہور و معروف بڑے شہروں میں سے ایک حیدرآباد بھی ان ہی کے تحت تھا، اس لئے تلنگانہ کو اپنے نئے ساتھی (آندھرا) کی جانب سے دبائے رکھنے جانے کی فکر لاحق ہوئی جب ان ریاستوں کا انضمام ہوا تب ان کے درمیان ایک شریفانہ معاہدہ ہوا جس میں تین چیزیں شامل تھیں۔ محفوظ سرکاری ملازمتیں، تعلیمی شعبہ میں محفوظ نشستیں اور دونوں علاقوں کے درمیان چیف منسٹر و ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدوں کا بٹوارہ پھر تلنگانہ کے وسائل کو صرف تلنگانہ پر ہی خرچ کیا جاتا تھا۔ کاغذ پر تو یہ چیزیں موجود تھیں لیکن اس میں کسی بھی چیز پر عمل نہیں کیا گیا کیونکہ تلنگانہ والوں کا کہنا تھا کہ حیدرآباد میں سرکاری ملازمتیں اور عہدے آندھرا پردیش سے آئے انگریزی بولنے والوں کو مل رہی تھیں اور اس کا اپنا پیسہ (یا وسائل) کو دوسری چیزوں پر خرچ کیا جارہا تھا اور آندھرا پردیش نے بالکل الگ باتوں کا اشارہ کیا کہ ماضی میں ان کے اپنے رہنماؤں نے حیدرآباد کو نظام کے شہر سے ہندوستان کے پاور ہاؤس کی شکل دی اور بعد میں اسے سونپنے کیلئے کہا گیا اور یقینی طور پر یہ بہت بڑی آزمائش تھی، مشکل کام تھا۔ 1969ء میں تلنگانہ کے نوجوان سڑکوں پر اُتر آئے اور ان لوگوں نے جو ناانصافی دیکھی، اس کی شدت سے مخالفت کی اور پھر اگلے پانچ دہوں تک یہ سوال پوری طرح ختم نہیں ہوا لیکن 2014ء میں وہی ہوا جس کا نہرو نے انتباہ دیا تھا۔ 2014ء میں دونوں کے الگ ہونے کے اب 12 سال بعد نتائج آگئے ہیں جو ایسے نہیں ہیں جس کی کسی فریق نے اُمید کی تھی۔ اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو دونوں ریاستیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، ان کی GSDP میں بہت کم فرق تھا۔ پھر 2023ء میں کچھ بدل گیا۔ تلنگانہ آگے نکل گیا اور پچھلے 3 برسوں سے اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ اب ان کا جی ڈی پی فرق تقریباً 500 کروڑ روپئے کے آس پاس ہے جو بہت زیادہ نہیں ہے۔ پھر بھی وہ آگے ہے۔ جی ڈی پی یہ بتاتا ہے کہ آپ کی معیشت کا حجم کتنا بڑا ہے تاہم یہ نہیں بتاتا کہ اس Pie میں آپ کا حصہ کتنا بڑا ہے۔ اس کیلئے آپ کو یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ فی کس اوسط آمدنی کیا ہے یعنی اس ریاست کا ایک فرد سالانہ کتنا کماتا ہے۔ یہ فرق 2022ء میں شروع نہیں ہوا تھا۔ 2011ء میں ریاست کی تقسیم سے بہت پہلے ہی اور تلنگانہ کے شہری پہلے ہی آندھرا کے شہریوں کے مقابل 21% زیادہ کما رہے تھے۔ 2024-25ء تک وہ فرق کم نہیں ہوا ہے اور یہ بڑھ کر لگ بھگ 43% ہوگیا تو جہاں دونوں کی معاشی صورتحال حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے تو اس معاملے میں تلنگانہ جیت رہا ہے۔ اب دوسری حقیقت دیکھتے ہیں۔ تلنگانہ کی ترقی پر کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران کچھ اثر پڑا جبکہ آندھرا پردیش زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تلنگانہ کی معیشت زیادہ تر خدمات کے شعبہ، آئی ٹی شعبہ اور اس کے آس پاس کے وسائل پر منحصر ہے جبکہ آندھرا پردیش کی معیشت زیادہ زرعی شعبہ پر منحصر ہے جوکہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران بھی بڑھتی رہی۔ اب عالمی وباء نے ان ریاستوں کی سچائی اجاگر کردی۔ یہ دکھا دیا کہ انہیں کن چیزوں سے فائدہ ہوا ہے اور وہ کن شعبوں میں کمزور ہیں۔ قرض کا جہاں تک سوال ہے آندھرا پردیش پر اس کی GSDP کا تقریباً 34 سے 35% قرض ہے۔ تلنگانہ پر لگ بھگ 28.29% قرض ہے۔ لیکن آندھرا کی صورتحال کافی خراب ہے اور دیگر چیزیں بھی یہی کہانی بیان کرتی ہیں۔ اب آندھرا پردیش بہت کمزور حالت سے کیوں شروع کرتا ہے۔ جب 2014ء میں آندھرا پردیش کی تقسیم کرکے علیحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل دی گئی تب مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش سے وعدہ کیا تھا کہ اسے خصوصی ریاست کا موقف دیا جائے گا۔ اضافی فنڈس فراہم کئے جائیں گے۔ ٹیکس یا محاصل میں رعایت دی جائے گی اور اس کے مالیاتی اُمور میں زیادہ لچک پیدا کی جائے گی، خاص طور پر اس لئے کیونکہ آندھرا پردیش حیدرآباد جیسے ریوینیو مرکز یا مرکز آمدنی سے محروم ہوگیا۔ اس کی بجائے آندھرا پردیش کو ایک پیاکیج دیا گیا جس کے تحت ایک نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایک آئی آئی ایم اور ایک ایمس دیا گیا لیکن مرکز نے جس کا وعدہ کیا تھا، اس کے مقابل یہ کچھ نہیں تھا تو آندھرا پردیش نے علیحدہ تلنگانہ کے 10 برسوں تک اپنی ریاست میں دوسرا حیدرآباد بنانے میں مصروف رہا۔ اب دیکھتے ہیں کہ پیسہ کہاں جارہا ہے۔ تلنگانہ میں بیرونی کمپنیوں کی طرف سے 7.5 روپئے اور آندھرا پردیش میں ایک سرمایہ مشغول کررہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ کہ ریاست تلنگانہ میں آندھرا پردیش کے مقابل 7.5 گنا بیرونی سرمایہ مشغول کیا جارہا ہے۔ اکٹوبر 2019ء اور مارچ 2026ء کے درمیان تلنگانہ نے 1,06,141.56 کروڑ روپئے بیرونی سرمایہ کاری حاصل کی ہے جبکہ آندھرا پردیش نے صرف 14,189.64 کروڑ روپئے اس مد میں حاصل کئے۔ اب حکومت تلنگانہ نے زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک مشین بنائی جو ایک سنگل ونڈو سسٹم ہے جو سرمایہ کاروں کو سرخ فیتہ کی رکاوٹ سے بچانے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس اب آندھرا پردیش بندرگاہوں تجارتی مراکز اور ڈیٹا سنٹروں پر نئے سرے سے زور دیتے ہوئے اپنا اپنا ماڈل بنانے کی دوڑ میں ہے۔