تلنگانہ بی جے پی قائدین میں اختلافات عروج پر

   

ایٹالہ راجندر سے قائدین ناراض ، سابق رکن پارلیمنٹ جتندر ریڈی کی قیام گاہ پر اہم اجلاس
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : انتخابی تیاریوں سے قبل بی جے پی قائدین کے اختلافات عروج پر پہونچ چکے ہیں ۔ بی جے پی کے سینئیر قائدین ایٹالہ راجندر پر سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ بی جے پی کے قومی قائدین کو جھوٹی اطلاعات دیتے ہوئے گمراہ کرنے اور ریاست میں پارٹی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے الزامات عائد کررہے ہیں ۔ کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کے بعد تلنگانہ بی جے پی کے قائدین میں اختلافات اور گروپ بندیوں میں اچانک اضافہ ہوگیا ۔ حالیہ دنوں میں گذشتہ دو ہفتوں سے ایٹالہ راجندر دہلی میں زیادہ وقت گذار رہے ہیں ۔ ایک مرتبہ آسام کا بھی دورہ کرچکے ہیں ۔ جس کے بعد ریاست میں بی جے پی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہونے کی قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ تلنگانہ بی جے پی صدارت سے بنڈی سنجے کو ہٹانے انہیں مرکزی وزارت میں شامل کرنے سابق وزیر ڈی کے ارونا کو صدارت سونپنے اور ساتھ ہی ایٹالہ راجندر کو تشہیری کمیٹی کی ذمہ داری سونپنے یا اس سے بھی اہم عہدہ دینے کی افواہیں گردش کررہی تھی ۔ انہیں تازہ حالات کے دوران اتوار کو بی جے پی کے سینئیر قائد سابق رکن پارلیمنٹ جتندر ریڈی کی قیام گاہ پر بی جے پی کے سینئیر قائدین کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سابق ارکان پارلیمنٹ کنڈہ ویشویشور ریڈی ، بی نرسیا گوڑ ، وجئے شانتی ، جی ویویک کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی۔ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی پارٹی میں جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ۔ ایٹالہ راجندر کی سرگرمیوں پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ قائدین نے آپس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ایٹالہ راجندر نے پارٹی کی قومی قیادت کو باور کرایا تھا کہ اگر انہیں دوسری پارٹی کے قائدین کو بی جے پی میں شامل کرانے کی کمیٹی کا صدر نشین نامزد کیا جاتا ہے تو وہ 20 تا 30 قائدین کو بی جے پی میں شامل کرانے کا یقین دلایا تھا ۔ جس پر پارٹی قیادت نے ان پر بھروسہ کیا تھا مگر وہ آج تک کسی بھی قائد کو پارٹی میں شامل نہیں کراسکے ۔ ایسے قائد کو دوسرا اہم عہدہ دینا کہاں کا انصاف ہے ۔ نیا عہدہ دینے پر اس میں کامیاب ہونے کی کیا ضمانت ہے ۔ پارٹی پروٹوکال پر قائم نہ رہنے کا ایٹالہ راجندر پر الزام عائد کیا گیا ۔ پارٹی قیادت کی جانب سے سینئیر قائدین کو بتائے بغیر بار بار ایٹالہ راجندر کو دہلی طلب کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ۔۔ ن