بی جے پی کی قومی قیادت مایوس ، جی کشن ریڈی ، ڈی اروند ، ایٹالہ راجندر اور دیگر بنڈی سنجے سے ناراض
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ بی جے پی میں پارٹی قائدین کے درمیان اختلافات اور گروپ بندیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ پارٹی کے چار قائدین ہیں اور کیڈر 40 گروپس میں تقسیم ہوگیا ہے ۔ جس سے تلنگانہ میں اقتدار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کی قومی قیادت مایوسی کا شکار ہوگئی ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کی مخالفتوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ دراصل بنڈی سنجے کی پارٹی میں شروع سے مخالفت رہی ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے لیے تھوڑی بہت لہر پیدا کرنے کی وجہ سے پارٹی کے قومی قائدین کی انہیں سرپرستی حاصل ہوئی تھی ۔ جس کے بعد انہوں نے ریاست میں پارٹی کے دوسرے قائدین کو اعتماد میں لے کر کام کرنے کے بجائے سب پر اپنی بالادستی تھونپنے کی کوشش کی ہے جس سے پارٹی کے گروپ بندیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ پارٹی کے بیشتر اہم قائدین بنڈی سنجے سے ناراض ہیں ۔ بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کے خلاف بنڈی سنجے نے غیر پارلیمانی ریمارکس کیا ہے ۔ جس کی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے مذمت کی ہے ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے سینئیر قائد پی چندر شیکھر نے بھی بنڈی سنجے کے خلاف علم بغاوت بلند کردی ہے ۔ نظام آباد کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ قومی جماعت بی جے پی میں علاقائی صدر کا عہدہ پاور سنٹر نہیں ہوتا بلکہ کوآرڈینیشن سنٹر ہوتا ہے ۔ بنڈی سنجے کی صدارت والی تین سالہ میعاد مکمل ہوچکی ہے ۔ اس کے بعد تلنگانہ بی جے پی صدارت کے لیے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی ، رکن پارلیمنٹ ڈی اروند ، ارکان اسمبلی ایٹالہ راجندر ، رگھونندن راؤ جیسے قائدین ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے تاہم بی جے پی ہائی کمان نے پھر ایک مرتبہ بنڈی سنجے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جس سے دوسرے قائدین ناراض ہیں ۔ ایٹالہ راجندر اور بنڈی سنجے کے درمیان پارٹی میں شامل ہونے والوں کو پارٹی ٹکٹ کا تیقن دینے کے مسئلہ پر ٹھن گئی ہے جس کی وجہ سے بی جے پی میں نئے قائدین کی شمولیت کا عمل تھم گیا ہے اور ساتھ ہی چند قائدین بنڈی سنجے پر الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ مختلف قائدین کو ٹکٹ دلانے کا بھروسہ دلاتے ہوئے بھاری رقم وصول کررہے ہیں ۔ سوائے ایک دو قائدین کے دوسری پارٹیوں سے مستعفی ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین کو بی جے پی میں اہمیت نہ دینے کی شکایت بھی عام ہوگئی ہے ۔۔ ن