ویملواڑہ میں درگاہ کی شہادت سرکاری سرپرستی میں شرانگیزی ۔ بی آر ایس قائدین کی ریاستی وزیر سے نمائندگی
حیدرآباد۔24 فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اقلیتوں کے مفادات اور ان کی عبادتگاہوں کے تحفظ کے بجائے انہیں برباد کرکے دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ بی آرایس قائدین نے وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین سے ملاقات کرکے ویملواڑہ مندر کیلئے درگاہ کو شہید کئے جانے پر شدید احتجاج کیا اور یادداشت حوالہ کرکے مطالبہ کیا کہ دوبارہ اسی مقام پر درگاہ کی تعمیر کے اقدامات کئے جائیں اور درگاہ کو شہید کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرکے کارروائی کی جائے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان سابق صدرنشین وقف بورڈ کی قیادت میں محمد اظہر الدین سے ملاقات کرنے والے وفد نے مکتوب میں درگاہ کے وقف گزٹ میں اندراج سے واقف کروایا اور کہا کہ حکومت کے ہی محکمہ جات اور عہدیداروں کی نگرانی میں درگاہ کو شہید کیاگیا جو 800 سال قدیم ہے۔ انہو ںنے میڈیا سے کہا کہ حکومت اقلیتوں میں دوسرے درجہ کا شہری ہونے کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی تلنگانہ میں اترپردیش اور گجرات جیسے طرز حکمرانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے ریاست کے مختلف مقامات پراقلیتی نوجوانوں کو پر حملوں اور شرانگیزی پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے 10 سال تک ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندوتوا طاقتوں پر کنٹرول کیلئے بی آ رایس نے اپنے دور میں متعدد اقدامات کئے تھے جس کے نتیجہ میں ریاست میں امن وامان کی برقراری یقینی بنائی جاسکی تھی لیکن 2023 میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ریاست میں بی جے پی اور ہندتوا طاقتوں کو منظم انداز میں مستحکم کیا جانے لگا ہے۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ نے ریاست میں گائے کی منتقلی ‘ مختلف جلوسوں کے علاوہ متنازعہ نعروں اور گانے بجاکر مسلم نوجوانوں کو اکسانے کی کوشش کی جار ہی ہے اور ان شرانگیزوں کو حکومت اور پولیس کھلی چھوٹ فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے ویملواڑہ میں درگاہ حضرت سید بابا تاج الدین باگ سوارؒ کو شہید کئے جانے کے معاملہ کو سرکاری سرپرستی میں شرانگیزی قرار دیا اور کہا کہ کانگریس رکن اسمبلی کی نگرانی میں اس درگاہ کو شہید کیاگیا جو کہ سابق میں بی جے پی ٹکٹ پر مقابلہ کرچکا ہے اس سے رکن اسمبلی کی ذہنیت کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔جناب محمد مسیح اللہ خان نے محمد اظہر الدین سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری کل جماعتی وفد اور وقف بورڈ عہدیداروں کے ہمراہ شہید درگاہ کے مقام کا دورہ کرکے حقائق سے آگہی حاصل کرکے عوام کو صورتحال سے واقف کروائیں اور درگاہ کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر و درگاہ کے تحت 25ایکڑ سے زائد اراضی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔3