تلنگانہ میں اقلیتوں کے مسائل پر ہفتہ کو کانگریس کا اقلیتی گرجنا

   

اندرا پارک پر دھرنا ، ہر ضلع میں احتجاج منظم کرنے شیخ عبداللہ سہیل کا اعلان
حیدرآباد۔11 ۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو کانگریس سے قریب کرنے کیلئے پردیش کانگریس کمیٹی مینارٹیز ڈپارٹمنٹ نے ریاست گیر سطح پر ایکشن پلان تیارکیا ہے۔ میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام 14 اگست کو اقلیتوں کے مسائل پر دھرنا چوک اندرا پارک پر بڑے پیمانہ پر دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ صدر نشین پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل کے مطابق اس دھرنے کو اقلیت گرجنا یعنی اقلیتوں کی للکار کا نام دیا گیا ہے۔ 2014 ء سے ٹی آر ایس دور حکومت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نظر انداز کردیا گیا اور چیف منسٹر نے جو وعدے کئے تھے، ان میں سے ایک بھی مکمل نہیں ہوا ۔ دھرنے کے ذریعہ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوںکو بے نقاب کیا جائے گا اور چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی جائے گی ۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، سابق صدور اتم کمار ریڈی ، پونالہ لکشمیا ، وی ہنمنت راؤ ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا سابق اپوزیشن لیڈرس محمد علی شبیر ، کے جانا ریڈی ، مہم کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی ، ورکنگ پریسیڈنٹس ڈاکٹر جے گیتا ریڈی، محمدا ظہرالدین ، انجن کمار یادو ، مہیش کمار گوڑ ، جگا ریڈی کے علاوہ ارکان اسمبلی سریدھر بابو ، سیتکا ، ایم ایل سی جیون ریڈی ، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامود راج نرسمہا اور دیگر قائدین حصہ لیں گے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ کے سی آر نے 2014 ء انتخابات میں کامیابی پر مسلمانوں کو ملازمت اور تعلیم میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا ۔ سات برس گزرنے کے باوجود وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی ۔ اسی طرح ریاست بھر میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے وقف بورڈ کو جوڈیشل پاور دینے کا اعلان کیا تھا ۔ ایٹالہ راجندر کے خلاف اسائنڈ لینڈ پر قبضوں کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن جی کملاکر نے کریم نگر میں 15 ایکر اوقافی اراضی پر قبضہ کیا ہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اقلیتی ادارے طویل عرصہ سے خالی ہیں جس کے سبب ان کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ عبداللہ سہیل نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس دور حکومت میں 6 مساجد کو شہید کیا گیا۔ سکریٹریٹ کی دو مساجد کی دوبارہ تعمیر کے مسئلہ پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہائی کورٹ کو گمراہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کے اور بھی حل طلب مسائل ہیں جن میں بجٹ کی کمی ، اسکالر شپ ، فیصد ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات کی عدم ادائیگی ، شادی مبارک درخواستوں کی عدم یکسوئی ، آلیر انکاؤنٹر ، کشن باغ پولیس فائرنگ کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف عدم کارروائی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو 153906 درخواستیں 2015-16 میں وصول ہوئیں۔ لیکن ایک بھی درخواست گزار کو قرض منظور نہیں کیا گیا۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ 14 اگست کا دھرنا اقلیتوں کے مسائل پر ریاست گیر احتجاج کا آغاز ہے۔ متحدہ 10 اضلاع میں ضلع ہیڈ کوارٹرس پر ایسے پروگرام منظم کئے جائیں گے ، آئندہ 10 ماہ تک ہر ضلع میں دھرنا ہوگا اور ستمبر کے پروگرام میں میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی شرکت کریں گے۔