سونے کی بھی اسمگلنگ ، حیدرآباد میں سرغنہ گرفتار ، دیگر سرمایہ کاروں کے نام ظاہر نہ کرنے کی تاکید ، گاڑیوں کو ضبط نہ کرنے اور خریداروں کے نام ظاہر کرنے کا دباؤ
حیدرآباد۔ 14۔ مئی ۔(سیاست نیوز) ملک کی معروف شاعرہ محترمہ انجم رہبر نے کہا تھا کہ ’’ جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے ‘ ان کاہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے‘‘کے مصداق شہر حیدرآباد کے نوجوان بالخصوص مسلم متمول خاندانوں کے نوجوانوںکی دولت بھی ان کے لئے عیب پوشی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ تلنگانہ میں کروڑہا روپئے مالیت کی گاڑیوں کی درآمدات‘ خریداری اور سرمایہ کاری کے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کئے جانے پر اس میں سیاسی ‘ تجارتی گھرانوں کے نوجوان اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے کئی اداکاروں کے ملوث ہونے کے انکشاف ہوگا لیکن کیا ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹلیجنس کی جانب سے اس معاملہ کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے گی یا محض ایک گرفتاری کے بعد معاملہ کو رفع دفع کرلیا جائے گا!کروڑہا روپئے مالیت کی گاڑیوں کی خریداری اور ان کی درآمدات کے معاملہ میں ملوث افراد کی فہرست میں شامل نوجوان بالخصوص وہ لوگ جو کہ سیاسی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے بھاری سرمایہ کاری کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے معاملہ میں ٹیکس چوری و دیگر معاملات سے وہ واقف نہیں ہیں جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک لاکھ روپئے کی سرمایہ کاری پر 5ہزار روپئے ماہانہ منافع دیتے ہوئے حاصل کئے جانے والے کروڑہا روپئے کا گرفتار شدہ شخص کے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں جلد دولت مند بننے کے خواہش مند نوجوان جو سرمایہ کاری کررہے ہیں ان میں بڑی تعداد اس طریقہ ٔ جرم سے واقف ہیں اور یہ کاروبار محض گاڑیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ جن قیمتی اشیاء میں ٹیکس چوری ممکن ہوتی ہے ان تمام اشیاء کے درآمدات کے ذریعہ یہ کاروبار چلایا جارہا ہے اور اس میں محض گاڑیوں کی خریدی کے ٹیکس کی چوری نہیں کی جارہی ہے بلکہ موبائل فون‘ الکٹرانک اشیاء کے علاوہ سونے کی اسمگلنگ کا بھی بڑا ریاکٹ کام کر رہا ہے اور سیاسی سرپرستی کے حامل افراد بے روزگار نوجوانوں کے ذریعہ قیمتی آئی فون کے علاوہ سونے کی اسمگلنگ کو یقینی بنارہے ہیں جبکہ قیمتی گاڑیوں کی منتقلی کا جو طریقہ کار ہے اس کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ نئی گاڑیوں کو دنیا کے دیگر ممالک میں خریدنے کے بعد انہیں سیکنڈ ہینڈ گاڑی کے طور پر ٹیکس چوری کرتے ہوئے ہندستان لایاجاتا ہے اور ہندستان لانے کے بعد ان گاڑیوں کا ملک کی مختلف ریاستوں میں رجسٹریشن کرواتے ہوئے انہیں فروخت کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ان قیمتی گاڑیوں کے خریداری میں نہ صرف سیاستداں شامل ہیں بلکہ فلم اداکار‘ تاجر اور اہم شخصیات بھی ہیں جنہوں نے یہ گاڑیاں خریدی ہیں۔ گاڑیوں کے اس کاروبار میں سرکاری عہدوں پر فائز بعض سیاستداں بھی ہیں جو کہ اقتدار میں موجود افراد سے اپنی قرابتداری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکردہ افراد کو ان گاڑیوں کا گاہک بناتے ہیں جو ٹیکس چوری کے ذریعہ ہندستان منتقل کی گئی ہوتی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں گاڑیوں کے اس کاروبار کی سرغنہ کی گرفتاری اور اس کے سیاستدانوں سے تعلق کو منظر عام پر لانے سے گریز کیا جا رہاہے تاکہ دیگر سرمایہ کاروں کے ناموں کا انکشاف نہ ہوسکے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار شدہ شخص کو تحقیقات کے دوران کسی اور کے نام کا انکشاف نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور ڈی آر آئی کی جانب سے دھاوے کے دوران حاصل ہونے والے ریکارڈس کی بناء پر گاڑیوں کو ضبط کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ حیدرآباد سے گرفتار شدہ کاروں کے ڈیلر کو ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹلیجنس نے گجرات منتقل کرتے ہوئے احمد آباد سی جی ایم کورٹ میں پیش کیا ہے جہاں جج نے ملز م کو عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گاڑیوں کے اس کاروبار میں ملوث بعض سیاسی تعلقات کے حامل افراد اس معاملہ کی تحقیقات کو رفع دفع کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور کہا جار ہاہے کہ حکومت تلنگانہ سے اپنی قربتوںکا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت میں شامل بعض وزراء سے بھی رابطہ قائم کرتے ہوئے وزارت فینانس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جار ہی ہے تاکہ اس معاملہ میں مزید نامو ںکا انکشاف نہ ہو اور جن خریداروں نے یہ گاڑیاں خریدی ہیں ان کے پاس سے گاڑیوں کو ضبط نہ کیا جائے ۔دونوں شہروں میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ‘ ڈی آر آئی یا سی بی آئی کی جانب سے جو کاروائیاں کی جاتی ہیں ان میں بیشتر کاروائیوں کے بعد تفصیلات کے افشاء سے گریز کیا جاتا ہے اور یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ان معاملات میں عہدیداروں کے ہاتھ کچھ نہیں لگا جبکہ کئی ایسے معاملات ہیں جن میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ ایجنسیوں کے عہدیداربھی تحقیقات کو غیر جانبدار رکھنے سے گریز کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کیونکہ ان پر سیاسی دباؤ ہوتا ہے اور عام طور پر شہر حیدرآباد میں مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے ۔ ان کاروبار میں ملوث افراد اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نوجوان اپنا کاروبار نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت داؤ پر لگاتے ہوئے کئی سیاستدانوں کے ’بے نامی ‘ کے طور پر یہ کاروبار انجام دے رہے ہیں۔اس کاروبار کے ذریعہ حاصل کی گئی دولت کا بے دریغ سیاست دانوں کی ضیافت اور ان کی خاطر تواضع کے لئے استعمال کرتے ہوئے ’’کھادی‘‘ پوش بننے لگے ہیں ۔3