وقف بورڈ میں سی او کی عدم موجودگی سے تعطل ۔ کئی وقف جائیدادیں متنازعہ بن سکتی ہیں
حیدرآباد 10 اکٹوبر(سیاست نیوز) وقف جائیدادوں کے UMEED پورٹل پر اندراج کیلئے وقف بورڈ میں چیف اکزیکیٹیو آفیسر کا تقرر ناگزیر ہے اور تلنگانہ وقف بورڈ میں سی ای او کا عہدہ مخلوعہ ہونے سے UMEED پورٹل پر موقوفہ جائیدادوں کا اندراج ممکن نہیں ہوپارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ سے مسلسل نمائندگیوں کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہونے کے نتیجہ میں ریاست کی موقوفہ جائیدادوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ تلنگانہ میں زائد از 33ہزار وقف ادارہ ٔ جات موجود ہیں اور ان کے تحت لاکھوں ایکڑ موقوفہ اراضی ہے جس کا وقف مرممہ قوانین 2025 کے تحت 6ڈسمبر سے قبل UMEED پورٹل پر اندراج ناگزیر ہے۔ سپریم کورٹ میں UMEED پورٹل پر اندراج کی آخری تاریخ اور مہلت میں توسیع کیلئے اپیل دائر کی گئی لیکن اس کی سماعت پر ابھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ موجودہ مہلت کے مطابق ڈسمبر کے پہلے یعنی 6ڈسمبر تک تمام موقوفہ جائیدادوں کا اس پورٹل پر اندراج لازمی ہے لیکن تلنگانہ وقف بورڈ سے اب تک مہم کا آغاز نہیں کیاگیا ہے بلکہ جو متولیان و سجادگان وقف بورڈ سے رجوع ہوکر اپنے وقف ادارہ کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کہا جار ہا ہے کہ وقف بورڈ میں سی ای او کی عدم موجودگی کے سبب ریکارڈس فراہم نہیں کئے جاسکتے کیونکہ بیشتر ریکارڈ کی فراہمی کیلئے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی دستخط لازمی ہے اور اس کے علاوہ UMEED پورٹل پر دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے بعد بھی سی ای او کی توثیق کے ذریعہ ان کا اندراج ممکن ہوسکتا ہے اسی لئے جب سی ای او ہی نہیں ہے تو UMEED پورٹل پر اندراجات کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ سجادگان و متولیان جو وقف بورڈ سے رجوع ہورہے ہیں ان کا کہناہے کہ اگر سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملتی ہے تو انہیں شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ بیشتر جائیدادیں جن پر قبضہ جات ہیں یا کرایہ دار موجود ہیں ان کا اندراج نہ کئے جانے کی صورت میں وہ جائیدادیں متنازعہ ہوجائیں گی۔ سجادگان و متولیان نے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ میں سی ای او کے عدم تقرر کے ذریعہ موقفہ جائیدادوں کو متنازعہ بنانے کی منظم سازش کی جار ہی ہے تاکہ ان جائیدادوں پر موجود قبضہ جات کو جائزقرار دینے کی راہ ہموار ہوسکے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے وقف بورڈ میں سی ای او کے عہدہ پر تقرر کے بجائے اس جگہ معمولی اختیارات کے ساتھ ایک عہدیدار کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے اور انہیں دیئے گئے اختیارات میں UMEED پورٹل کے اندراجات کی توثیق کا اختیار شامل نہیں ہے۔3