تلنگانہ میں ووٹر سروے کا بحران، 60.88 لاکھ رائے دہندے فارمس سے محروم

   

3.38 کروڑ کے منجملہ صرف 2.77 کروڑ ووٹرس کو فارمس دستیاب، تال میل کے فقدان کا مہم پر اثر
حیدرآباد ۔ 4 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ بھر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جانے والی ووٹرلسٹ جامع نظرثانی مہم (SIR) شدید ترین انتظامی بحران اور سست روی کا شکار ہوگئی ہے جس نے پوری ریاست میں مہم کے وقت پر مکمل ہونے پر سنگین شکوک و شبہات کھڑے کر دئے ہیں۔ شیڈول کے مطابق گھر گھر فارم تقسیم کرنے کا عمل شروع ہوئے 10 دن کا طویل وقت گزرنے کے باوجود اب بھی ریاست کے لاکھوں ووٹرس کو اینومریشن فارمس موصول نہیں ہوئے۔ اعدادوشمار کے مطابق ریاست بھر میں جملہ 3.38 کروڑ ووٹرس رجسٹرڈ ہیں لیکن انتخابی عملہ اب تک صرف 2.77 کروڑ ووٹرس تک ہی پہنچ پایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ ریاست کے 60.88 لاکھ ووٹرس فارمس تقسیم کرنے کی مدت ختم ہوجانے کے باوجود اب بھی فارم حاصل کرنے کے منتظر ہیں جس پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں حکومت اور الیکشن کمیشن کی مشنری پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ اس سنگین تاخیر کی سب سے بڑی وجہ مختلف متعلقہ سرکاری محکموں کے درمیان تال میل اور کوآرڈینیشن کا نہ ہونا اور فیلڈ پر عملے کی شدید کمی ہے۔ انتخابی حکام کیلئے سب سے بڑا چیلنج شہروں میں موجود ہائی رائز اپارٹمٹس اور گٹیڈ کمیونٹیز بنے ہوئے ہیں جہاں سیکوریٹی وجوہات کی بناء پر بوتھ لیول آفیسرس اور بوتھ لیول ایجنٹس کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جیسے جیسے نظرثانی کی آخری تاریخ قریب آرہی ہے ووٹرس کے درمیان یہ الجھن اور خوف بڑھتا جارہا ہے کہ کہیں ان کا نام ووٹرلسٹ سے خارج نہ کردیا جائے۔ اس ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب سینئر عہدیدار نے فیلڈ لیول کے عہدیداروں سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایک طرف جہاں فارمس کی تقسیم اور فیلڈ سے ان کی واپسی توقع کے مطابق انتہائی کم ہے وہی دوسری طرف الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹائزیشن کا عمل تیز کردیا ہے۔ جن علاقوں میں ووٹرس کو فارمس مل چکے ہیں وہ ان کی خانہ پری کرتے ہوئے واپس کررہے ہیں اور BLOs ان بھرے ہوئے فارمس کو جمع کرکے کمپیوٹر میں (Data Entry) کررہے ہیں۔ ڈیٹا انٹری کی رفتار تو تیز ہے لیکن جب تک باقی 60.88 لاکھ ووٹرس تک فارم نہیں پہنچیں گے تب تک صدفیصد ڈیجیٹائزیشن ناممکن ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام نے پوری مشنری کو متحرک کرتے ہوئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ BLOs اور BLAs کو واضح کردیا گیا ہیکہ وہ فوری طور پر تمام باقی گھروں کا دورہ کریں اور فارمس تقسیم کے عمل کو 100 فیصد مکمل کریں۔ اعلیٰ حکام نے سخت وارننگ دی ہیکہ اس قومی مہم میں کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ڈیوٹی سے لاپرواہی برتنے والے غیرفعال عملے کے خلاف فوری تادیبی اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔2