ٹی آر ایس کا متبادل صرف کانگریس پارٹی ، 2023 ء میں کانگریس کی حکومت ہوگی
حیدرآباد۔30 ۔ جولائی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس کے سبب تلنگانہ میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان نقلی لڑائی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بظاہر دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہی ہیں لیکن درپردہ طور پر مفاہمت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا متبادل صرف کانگریس پارٹی ہوسکتی ہے ، عوام فرقہ پرست جماعتوں کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بلز کو ٹی آر ایس کی تائید سے بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میونسپالٹیز کی ترقی کیلئے کلکٹرس کو اختیارات تفویض کرنا غیر جمہوری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ میونسپل ایکٹ میں کئی ترمیمات ایسی ہیں جن کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 85 فیصد درخت شجرکاری کے بعد ختم ہورہے ہیں ، کیا اس کی ذمہ داری چیف منسٹر قبول کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ گھر گھر کانگریس پروگرام میں مزید ایک ہفتہ کی توسیع کی گئی ہے۔ میونسپل انتخابات میں پارٹی کیڈر کو متحد کرنے اور ان میں نیا جوش پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل ایکٹ میں کلکٹرس کو دیئے گئے اختیارات کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا ۔ کے سی آر جمہوری انداز میں نہیں بلکہ ڈکٹیٹرشپ کی طرح حکومت چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں ہریتاہرم پروگرام کی ناکامی پر چیف منسٹر اور وزراء میں سے کسی نے استعفیٰ نہیں دیا لیکن اب عوامی نمائندوں کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ جو چیز چیف منسٹر اور وزراء پر قابل عمل نہیں ، وہ میونسپلٹیز پر کس طرح لاگو کی جاسکتی ہے۔ آر ٹی آئی بل کو ٹی آر ایس کی تائید سے بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت ثابت ہوچکی ہے۔ ملک میں بی جے پی پولیس کے ذریعہ حکومت چلانا چاہتی ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ ویویک سے ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ویویک کانگریس پارٹی میں شامل ہورہے ہیں، اس بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ میں نے قدیم دوستی کے ناطے ان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ میں آئندہ اقتدار کانگریس کا رہے گا۔ بی جے پی محض شہری علاقوں تک محدود ہے ۔ میڈیا کی جانب سے بی جے پی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جبکہ عوام میں بی جے پی کا وجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی فرقہ پرست سیاست کو عوام قبول نہیں کریں گے۔