تلنگانہ میں 12 فیصد مسلم آبادی کے باوجود کوئی اہمیت یا طاقت نہیں

   

چیف منسٹر کے سی آر کے اعلانات کے باوجود عہدیداروں کی ٹال مٹول پالیسی
حیدرآباد۔30۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ 12فیصد مسلم آبادی ہونے کے باوجود ان کی کوئی اہمیت یا طاقت باقی نہیں ہے جبکہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں 9 فیصدمسلم آبادی کے باوجودان کے ساتھ ناانصافی کی ایسی مثالیں نہیں ملتی جو علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ملنے لگی ہیں۔تلنگانہ کے مسلمانو ںکی بے وقعتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے مسلمانوں کے لئے کئے جانے والے اعلانات پر عمل آوری نہ ہونے کے باوجود کوئی شکایت کرنے والا ہے اور نہ ہی حکومت یا عہدیداروں کے رویہ پر کسی کو کوئی اعتراض ہے۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے لئے کئے جانے والے اعلانات یا ان کی ترقی کے لئے تیار کئے جانے والے منصوبوں پر عمل آوری نہ ہونے پر کوئی جوابدہ ہوا کرتا تھا لیکن حکومت تلنگانہ میں اقلیتی امور اور بہبود کے معاملہ میں کوئی جوابدہ تک نہیں ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست میں مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کی توقع کی جار ہی تھی لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے کانوں کو محض اعلانات سے خوش کیا گیا ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے مسلمانوں کے لئے سب پلان کے منصوبہ کا اعلان کیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا ‘شہر کے نواحی علاقہ کوکاپیٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کے قیام کا اعلان کیا گیا اس پر بھی عمل آوری نہیں کی گئی ‘ تلنگانہ وقف کمشنریٹ کے قیام کے منصوبہ کا اعلان کیا گیا لیکن عمل ندارد‘ دلتوں کے لئے چلائی جانے والی اسکیم ٹی۔پرائیڈ کے طرز پر مسلمانوں کے لئے ٹی ۔پرائم اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیاتھا لیکن اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں کی گئی ۔ اجمیر شریف کے زائرین کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے رباط کی تعمیر کے سلسلہ میں اقدامات کا اعلان کیا گیا لیکن اب تک یہ تعمیر شروع نہیں ہوپائی اور نہ ہی اراضی کی خریدی کے اقدامات کئے گئے ۔ حالیہ عرصہ میں ریاستی حکومت نے دلتو ںکے لئے دلت بندھو اسکیم شروع کرتے ہوئے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا اور اس پر عمل آوری کی جاری ہے جبکہ اسمبلی میں چیف منسٹر نے دلت بندھو کے طرز پر مسلم بندھو اسکیم شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کو مذہبی سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلہ میں عظیم الشان تقریب کا انعقاد عمل میں لایا گیا لیکن عملی طو ر پر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں چیف منسٹر تلنگانہ نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا لیکن شائد عہدیداروں کے پاس چیف منسٹر کے احکام کا بھی پاس و لحاظ نہیں ہے یا پھر ان احکامات کے بعد چیف منسٹر کو خود عہدیداروں کی جانب سے گمراہ کرتے ہوئے ان پر عمل آوری سے فرار اختیار کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ ایسے کئی اعلانات ہیں جو کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے لئے کئے گئے لیکن عمل آوری کے معاملہ میں دریافت کرنے پر کوئی جواب دینے والا تک موجود نہیں ہے۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں چلائی جانے والی فیس بازادائیگی اسکیم پر عمل آوری میں تاخیر ‘ اسکالرشپس کی اجرائی میں تاخیر معمول کی بات بن چکی ہے ۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں اب ایک چپراسی بھی نہیں ہے اور مسجد کے امورمحکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے چلانے کا دعویٰ کیا جار ہاہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ٹمریز کو سالانہ کروڑہا روپئے کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس ادارہ کو سیاسی قائدین کی بازآبادکاری کا مرکز بنایاجاچکا ہے جہاں نااہل اور غیر تعلیم یافتہ افراد کی خدمات کے حصول کے ذریعہ تعلیم یافتہ اساتذہ کی نگرانی کی جارہی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے لئے شادی مبارک اسکیم کے تحت چیکس کی اجرائی کے ذریعہ انہیں چاکلیٹ دیا جا رہاہے اور کسی بھی مسئلہ یا اسکیم کے متعلق دریافت کرنے پر شادی مبارک اسکیم اور ٹمریز کا حوالہ دیا جانے لگا ہے جبکہ کئی اسکیمات ٹھپ ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد منتخبہ مسلم نمائندوں کی اہمیت کو بھی ختم کرنے اور ان کی جانب سے کی جانے والی نمائندگیوں کو نظرانداز کیا جانے لگا ہے جس کی بنیادی وجہ کے متعلق ذرائع کا کہناہے کہ ریاستی حکومت مسلم نمائندوں کی جانب سے کی جانے والی نمائندگیوں اور مطالبات کے سلسلہ میں مشیر برائے اقلیتی امور سے مشاور ت کے نام پر برفدان کی نذر کیا جا رہاہے۔ مسلم منتخبہ نمائندوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا مشیر برائے اقلیتی امور کا عہدہ ریاست کے مسلمانوں کی ترقی کے بجائے ان کے لئے بے وقعتی کا سبب بننے لگا ہے کیونکہ چیف منسٹر اور عہدیداروں کی جانب سے منتخبہ نمائندوں کے مطالبات اور ان کی نمائندگیوں کو مسلسل نظرانداز کئے جانے کی کوئی اور مسلم سیاسی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں اور علماء کو نظر نہیں آرہی ہے۔م