حکومت فلاحی اسکیمات کو ترجیح دے گی ، عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں ہوگا
حیدرآباد۔9۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت مالیاتی سال 2023-24 ء کے لئے 2.75 لاکھ کروڑ کے بجٹ کی تیاری میں مصروف ہے۔ مالیاتی سال 2022-23 ء میں مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈس کی اجرائی میں ناانصافیوں کے باوجود تلنگانہ حکومت نے اپنے طور پر وسائل اکھٹا کرتے ہوئے 2.75 لاکھ کروڑ بجٹ کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ فلاحی اسکیمات میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ جاریہ سال ڈسمبر میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کے سی آر حکومت کا یہ الیکشن بجٹ رہے گا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت نئی اسکیمات کے بجائے جاریہ فلاحی اسکیمات کو برقرار رکھے گی اور ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ مرکز کے عدم تعاون کے باوجود کے سی آر نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ فلاحی اسکیمات کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ حال ہی متعارف کردہ دلت بندھو اسکیم پر ہر اسمبلی حلقہ میں عمل آوری بجٹ میں اہمیت کی حامل رہے گی۔ واضح رہے کہ 2022-23 ء میں حکومت نے 2.56 لاکھ کروڑ پر مشتمل بجٹ پیش کیا تھا جس میں مالیاتی مصارف 1.89 لاکھ کروڑ کے تھے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 56 ہزار کروڑ کی عدم ادائیگی کے باوجود حکومت نے فلاحی اسکیمات کے لئے بجٹ میں کمی نہیں کی ۔ مرکز نے فنڈس ، گرانٹس اور معاوضہ کے مدات کے تحت فنڈس کی اجرائی میں تساہل سے کام لیا ہے۔ نومبر 2022-23 ء میں ریاست کی مجموعی آمدنی میں 19 فیصد کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال کے مقابلہ یہ اضافہ حوصلہ افزاء رہا۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے مطابق 2022-23 ء میں نومبر تک ریاست کی مجموعی آمدنی 125157 کروڑ رہی جبکہ گزشتہ سال نومبر میں یہ آمدنی 105167 کروڑ تھی۔ وزیر فینانس ہریش راؤ اسمبلی میں عبور بجٹ پیش کرسکتے ہیں کیونکہ جاریہ سال ڈسمبر میں اسمبلی انتخابات مقرر ہیں۔ بجٹ میں جن شعبہ جات کو ترجیح دی جائے گی ، ان میں زراعت ، صحت ، تعلیم اور ویلفیر شامل ہیں۔ دلت بندھو ، آسرا پنشن کے علاوہ انفراسٹرکچر پراجکٹس پر بجٹ میں توجہ دی جائے گی۔ حکومت کا الیکشن بجٹ ٹیکس فری رہ سکتا ہے۔ر