تلنگانہ میں 30 ہزار سرکاری جائیدادوں پر تقررات کا عمل جاری : بھٹی وکرامارکا

   

100 کے سی آر بھی ترقی روک نہیں پائیں گے۔ ناگر کرنول کے اچم پیٹ میں ترقیاتی اسکیمات کا آغاز
حیدرآباد 26 مئی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے دعویٰ کیاکہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں تلنگانہ ملک کے لئے رول ماڈل بن چکی ہے جہاں کانگریس حکومت نے تمام طبقات کی بھلائی کے لئے اسکیمات متعارف کی ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے آج ناگرکرنول ضلع میں مختلف ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کیا۔ اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاکہ ریونت ریڈی کی زیرقیادت عوامی حکومت نے سرکاری ملازمین، کسانوں اور کمزور طبقات کی بھلائی کو اوّلین ترجیح دی ہے۔ بے زمین زرعی مزدوروں کو سالانہ 12 ہزار روپئے کی امداد دی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قبائیلی کسانوں کے لئے حکومت نے 12 ہزار کروڑ پر مشتمل ڈیکلریشن جاری کیا ہے۔ سرکاری ملازمین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ سابق بی آر ایس حکومت نے سرکاری ملازمین کو نظرانداز کردیا تھا۔ سابق حکومت کے بقایہ جات کو کانگریس حکومت ادا کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 10 ہزار کروڑ کے بقایہ جات میں حکومت نے 8 ہزار کروڑ ادا کردیئے ہیں۔ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت بے گھر غریب خاندانوں کو مکان کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ تحریک کے دوران بی آر ایس نے نوجوانوں سے روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اُس وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا۔ کانگریس حکومت نے ایک سال میں 50 ہزار سے زائد سرکاری جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے ہیں۔ طبقاتی سروے کے ذریعہ کمزور طبقات کو سماجی انصاف کی فراہمی کا آغاز ہوا ہے۔ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے سائنٹفک انداز میں طبقاتی سروے کا اہتمام کیا اور بی سی طبقات کے لئے 42 فیصد تحفظات کا فیصلہ کیا گیا۔ محبوب نگر ضلع کی ترقی کے لئے پالمور رنگاریڈی اور دیگر آبپاشی پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کا فیصلہ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر نے 10 سالہ دور حکومت میں قبائیل سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں کی۔ اراضی کی فراہمی اور تحفظات میں اضافہ کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ ریاست کی ترقی کو کوئی طاقت روک نہیں پائے گی۔ 100 کے سی آر بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ ریاست میں برقی کی مؤثر سربراہی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاکہ غریبوں کو 200 یونٹ مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے اور حکومت نے موسم گرما میں برقی طلب میں 17162 میگاواٹ کے ریکارڈ اضافہ کے باوجود بلاوقفہ سربراہی کو جاری رکھا۔ کے سی آر دور حکومت میں ایک مرتبہ بھی گروپ ون امتحان منعقد نہیں کیا گیا جبکہ کانگریس نے ایک سال میں 57 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے اور مزید 30 ہزار جائیدادوں پر تقررات کا عمل جاری ہے۔ تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کے لئے راجیو یوا وکاسم اسکیم متعارف کی گئی جس کے تحت 9 ہزار کروڑ کے قرض جاری کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں خدمات کو بہتر بنانے حکومت کی مساعی کا ذکر کیا اور کہاکہ تلنگانہ کے سرکاری ہاسپٹلس میں کارپوریٹ طرز کی طبی سہولتیں دستیاب رہیں گی۔1