13 اور 14 اگست کو بی آر ایس کے اہم اجلاس ، 17 اگست کے بعد لیگل ٹیم متحرک رہے گی
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ریاست میں ووٹر لسٹوں کی جامع نظر ثانی عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 74 لاکھ اینومریشن فارمس کا جمع نہ ہونا اور ان ووٹوں کا خارج ہونا جمہوریت کے لیے خطرناک اشارہ ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس پارٹی اہل ووٹرس کے حقوق اور ان کے ووٹ کے تحفظ کیلئے قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر جدوجہد کرے گی ۔ کے ٹی آر نے انکشاف کیا کہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے قبل ریاست میں جملہ 3.39 کروڑ ووٹرس رجسٹرڈ تھے تاہم الیکشن کمیشن سے موصولہ اطلاعات کے بعد اس میں تشویشناک حد تک کمی آرہی ہے ۔ کے ٹی آر نے اس عمل سے متعلق بی آر ایس کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے تفصیلی جائزہ لیا ۔ اس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 74 لاکھ سے زائد اینومریشن فارمس جمع نہیں ہوئے جن کے بڑے پیمانے پر حذف ہونے کا قوی خدشہ ہے ۔ مزید 60 لاکھ سے زائد ووٹوں میں سنگین غلطیاں اور شبہات موجود ہیں ۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر کے اعلان کے مطابق ڈرافٹ ووٹر لسٹ 17 اگست کو شائع کی جائے گی ۔ مسودہ کی اجرائی کے بعد بی آر ایس پارٹی خصوصی حکمت عملی تیار کرے گی ۔ پارٹی 13 اور 14 اگست کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرے گی ۔ جس کے بعد پارٹی صدر کے سی آر سے مشاورت کر کے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریگی ۔ مسودہ ووٹر لسٹ کی اجرائی کے بعد تمام اضلاع میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے مقامی حالات کا جائزہ لیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بی آر ایس نے اپنے لیگل سیل اور قانونی ماہرین سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے ۔ اگر کسی بھی اہل شہری کا نام سیاسی یا انتخابی غفلت کی وجہ سے لسٹ سے ہٹایا گیا تو اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا ۔ گراونڈ لیول پر پارٹی کیڈر کو متحرک کیا جارہا ہے تاکہ وہ عوام کو مسودہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام چیک کرنے میں رہنمائی کریں گے ۔۔ 2/m/b