مہیش کمار گوڑ کا الزام ، گیانیش کمار کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رہے گا
حیدرآباد۔8 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے اعلان کیا کہ انڈیا اتحاد کی جانب سے گیانیش کمار کے استعفیٰ تک جدوجہد جاری رہے گی۔ لوک بھون تک مارچ کے موقع پر گرفتاری کے بعد پولیس اسٹیشن پنجہ گٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ملک بھر میں ایس آئی آر کے نام پر ووٹ چوری کے واضح ثبوت منظر عام پر آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلوں کے ذریعہ لاکھوں رائے دہندوں کے ناموں کو فہرست سے حذف کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی فارم 6 میں کی گئی تبدیلیوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔ اپوزیشن کے ملک گیر سطح پر احتجاج کے باوجود مودی حکومت گیانیش کمار کا بچاؤ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار عہدہ پر برقراری کے حق سے محروم ہوچکے ہیں اور انہیں رضاکارانہ طورپر استعفیٰ پیش کرناچاہئے۔ مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیا کہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے سلسلہ میں عوام کا اعتماد الیکشن کمیشن پر سے اٹھ چکا ہے۔ الیکشن کمیشن عوام کے شبہات کو دور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام عوام کے دستوری حقوق کا تحفظ کرنا الیکن گیانیش کمار نے یکطرفہ فیصلوں کے ذریعہ لاکھوں کی تعداد میں عوام کو رائے دہی کے حق سے محروم کردیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی اور دیگر قائدین کے مسلسل دو دنوں سے گرفتاری کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت بچاؤ احتجاج جاری رہے گا۔ مودی حکومت اور الیکشن کمیشن میں ملی بھگت آشکار ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے جس انداز میں غیر قانونی فیصلے کئے ، ان پر دو کمشنران نے اپنا اعتراض درج کرایا ہے۔ ملک بھر میں ایس آئی آر کے ذریعہ بی جے پی کو کامیاب کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی ملی بھگت کے ذریعہ 92 لاکھ ناموں کو فہرست سے حذف کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کے اشارہ پر کام کرنے والے الیکشن کمیشن نے بہار ، مغربی بنگال ، مہاراشٹرا ، ہریانہ اور دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے۔1/k/m/b