ملک کے کئی ریاستوں میں بھی وباء، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی رپورٹ
حیدرآباد۔5۔مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں H1N1 کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے اور ڈسمبر 2022 سے جاری اس وباء کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں اور شہروں میں اس وباء کے مریض پائے جانے لگے ہیں اور بخار‘ گلے میں خراش ‘ کھانسی اور اعضاء شکنی کے ساتھ وہ ڈاکٹرس سے رجوع ہونے لگے ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء کے دوران پائی جانے والی ان علامات کے ساتھ دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ان کے کورونا وائرس معائنوں کے دوران انہیں کورونا وائرس کی توثیق نہیں ہوئی اور ان کی رپورٹ منفی آئی ہے لیکن یہ مریض سوائن فلو یعنی H1N1 سے متاثر پائے گئے ہیں۔ آئی سی ایم آرکی رپورٹ میں سوائن فلو کی نئی وباء کی بھی توثیق ہوئی ہے جسے ماہرین نے H3N2 کا نام دیا ہے اور مریض جو اس وباء کا شکار ہورہے ہیں وہ شخصی طور پر ڈاکٹرس سے رجوع ہوتے ہوئے خانگی دواخانوں میں ہی اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کو آئی سی ایم آر نے تلنگانہ میں سوائن فلو کی وباء کے متعلق آگاہ کردیا ہے اور وباء کا شکار ہونے والے مریضوں کی علامات سے بھی واقف کروایا جاچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق کورونا وائرس سے قبل پھیلنے والی یہ وباء عام طور پر سال میں دو مرتبہ پھوٹتی ہے لیکن اس مرتبہ ڈسمبر سے جاری یہ وباء مارچ کے دوران بھی باقی ہے جبکہ ڈسمبر تاجنوری کے دوران اس وباء کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جاتا رہا ہے۔ سوائن فلو کا شکار مریض ایک ہفتہ سے زیادہ کھانسی کا شکار رہتے ہیں اور ان کو کھانسی کے ساتھ ساتھ گلے میں خراش اور بخار کے علاوہ اعضاء شکنی کی بھی شکایت ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر راجا راؤ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل نے بتایا کہ H1N1کا شکار ہونے والے مریض ڈاکٹرس کی جانب سے دی جانے والی روایتی ادویات سے ٹھیک ہوجاتے ہیں اور اگر ان علامات کا شکار مریض خود کو گہما گہمی سے دور رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں اس وباء کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ آئی سی ایم آر کی رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس وباء کے مریض پائے جا رہے ہیں لیکن وہ 8تا10کے دوران ٹھیک ہونے لگے ہیں۔