تلنگانہ وقف بورڈ میں حکومت اور وزراء کی بے جا مداخلت
درگاہ حضرت جہانگیر پیراں کے امور کے ٹنڈر پر ٹھیکہ داروں کی خاموشی ، بورڈ نقصان کا شکار
حیدرآباد۔11جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اور وزراء کے علاوہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے امور میں مداخلت بیجا وقف بورڈ کی آمدنی کو نقصان پہنچارہی ہے ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے تحت موجود درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے امور کے ہراج کے سلسلہ میں طلب کردہ ٹنڈر میں کسی بھی ٹھیکہ دار نے ٹنڈر داخل نہیں کیا ہے جو کہ وقف بورڈ کو دوہرے نقصان کا سبب بن چکا ہے۔ گذشتہ 4ماہ کے دوران وقف بورڈ نے درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے امور کے لئے دوسری مرتبہ ٹنڈر طلب کیا تھا اور آج ٹنڈر کی کشادگی کے موقع پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ کسی نے بھی درگاہ کے امور کے لئے کوئی ٹنڈر داخل نہیں کیا کیونکہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے ٹنڈر میں شامل اشیاء کی فہرست میں سے دو اشیاء غلاف کے علاوہ عود و صندل کو شامل نہیں کیا تھا اور اس سلسلہ میں علحدہ ٹنڈر کے لئے سیاسی دباؤ ڈالے جانے کے سبب کئے جانے کی اطلاع ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے امور کو ہراج نہ کئے جانے کے سبب گذشتہ 4ماہ کے دوران کم از کم ایک کروڑ کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ اگر درگاہ حضرت جہانگیرپیراںؒ کے امور کو یوں ہی نظرانداز کیا جاتا رہے تو ایسی صورت میں آئندہ چند ماہ کے دوران مزید ایک کروڑ روپئے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے درگاہ کے امور کے ہراج کے سلسلہ میں جو اعلامیہ جاری کیا تھا اس کے مطابق ایک سال کے لئے ٹنڈر کم از کم 2کروڑ 80لاکھ کے لئے دیئے جانے کا امکان تھا اور اگر بولی دہندگان کی جانب سے اضافی رقومات درج کی جاتی تو ایسی صورت میں 3کروڑ تک کی آمدنی متوقع تھی لیکن کسی بھی ٹھیکہ دار کی جانب سے ٹنڈر داخل نہ کئے جانے کے سبب وقف بورڈ کو اشتہارات کے علاوہ دیگر اخراجات کا بھی بوجھ برداشت کرنا پڑاہے۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ 4ماہ سے درگاہ کے امور راست بورڈ کی نگرانی میں ہونے کے سبب محض 20تا25لاکھ کی آمدنی ہوئی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے امور کے ہراج کے سلسلہ میں سیاسی مداخلت کو قبول کرتے ہوئے کئے جانے والے اقدامات بورڈ کے لئے مالیاتی خسارہ کا سبب بننے لگے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے امور اور آمدنی سے وہ لوگ فائدہ اٹھائیں گے جن لوگوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور وہ ہراج کے امور میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔م