بورڈ میں بدعنوان عہدیداروں سے وقف جائیدادوں کو شدید نقصان
حیدرآباد۔29۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے سرکل کی از سر نو حد بندی اور ان میں اضافہ کے ذریعہ وقف بورڈ کی جائیدادوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے لیکن 1980کے بعد سے اب تک وقف بورڈ کے سرکلس کی نئی حد بندی نہیں کی گئی جس کے سبب ملازمین اور عہدیداروں کی من مانی اور چوکیداروں کا ان سرکلوں پر راج چل رہا ہے۔ وقف بورڈ کے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں محض 7 سرکل ہیں جبکہ جی ایچ ایم سی کے سرکلس کی تعداد کا مشاہدہ کیا جائے تو ان کی تعداد 30ہے لیکن اس کے باوجود جی ایچ ایم سی کی کارکردگی بہترنہیں ہوپائی تو ایسی صورت میں 7سرکل رکھنے والے وقف بورڈ کی کارکردگی کو کیا خاک بہتر بنایا جاسکتا ہے! ریاستی حکومت ضلعی انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لئے ریاست میں اضلاع اور منڈلوں کی تعداد میں اضافہ کررہی ہے لیکن وقف بورڈ کے عہدیدار حکومت کے ان اقدامات سے تحریک حاصل کرنے کے بجائے معطل ہونے والے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بناتے ہوئے بورڈ میں بدعنوانیوں کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بدعنوان ملازمین جن پر بکروں کی چوری اور میریج سرٹیفیکیٹ کی تیاری کے علاوہ دیگر دلالیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے انہیں عہدیداروں کی جانب سے ایسی ذمہ داریاں تفویض کی جا نے لگی ہیں جو کہ اوقاف کے حق میں نہیں ہیں۔ وقف بورڈ کے بدعنوان ملازمین جو شہر کے نواحی و مضافاتی علاقو ںمیں اوقافی جائیدادو ںکو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جانا ضروری ہے لیکن ان ملازمین کو ایسے بدعنوان عہدیداروں کی پشت پناہی حاصل ہے جو ان کے ذریعہ اپنے کام کرواتے رہے ہیں۔ وقف بورڈ کے تحت موجود گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی کے تحفظ کے لئے جن چوکیداروں کو مامور کیا گیا تھا ان ملازمین پر الزامات ہیں کہ وہ گٹلہ بیگم پیٹ کی موقوفہ اراضی پر لینڈ گرابرس کو تعمیرات کی اجازت دینے کے مرتکب ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی جو کہ وقف بورڈ کے اختیارات کو چیالنج کے مترادف ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے وقف بورڈ کی تشکیل کے باوجود بورڈ کی جانب سے بدعنوانیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات نہ کئے جانے پر یہ تاثر پیدا ہونے لگا ہے کہ وقف بورڈ کے ملازمین بورڈ کے اختیار سے ماورا ہیںاور ان کے خلاف بورڈ کوئی کاروائی نہیں کرسکتا۔ چیف ایکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب شاہنواز قاسم نے وقف بورڈ کی جانب سے جاری کئے جانے والے میریج سرٹیفیکیٹ کے حصول کو آسان بنانے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ لائق ستائش ہیں لیکن اس کے باوجود بورڈ کے بعض ملازمین اب بھی میریج سرٹیفیکیٹ کی اجرائی میں دلالی کے علاوہ جی اے ڈی رجسٹریشن کے نام پر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جار ہی ہے۔وقف بورڈ میں بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت معطل کئے گئے ملازمین کی خدمات کو بحال کئے جانے کے معاملات کی فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہئے بصورت دیگر اس طرح کے بدعنوان ملازمین عہدیداروں کی چاپلوسی اور اپنی من مانی کے ذریعہ وقف بورڈ کی جائیدادوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔م