رقومات کی ضبطی میں احتیاط کا مشورہ، 13 اسمبلی حلقہ جات میں شام 4 بجے تک رائے دہی9 لاکھ نئے رائے دہندے
حیدرآباد ۔3۔نومبر (سیاست نیوز) چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے بتایا کہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی پہلے دن تلنگانہ میں پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوچکا ہے۔ حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وکاس راج نے کہا کہ 30 نومبر کو 13 اسمبلی حلقہ جات میں شام 4 بجے تک رائے دہی ختم ہوجائے گی جبکہ باقی اسمبلی حلقہ جات میں شام 5 بجے تک رائے دہی کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو چھوڑ کر دیگر ایام کار میں پرچہ جات نامزدگی قبول کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امیدوار انتخابی پرچہ جات کے چار سیٹ داخل کرسکتے ہیں جبکہ ڈپازٹ کی رقم صرف ایک سیٹ کے لئے داخل کی جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہر پرچہ نامزدگی کے ساتھ علحدہ ڈپازٹ کی رقم داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ امیدواروں کو حلفنامہ کے تمام کالمس کو لازمی طور پر پر کرنا ہوگا۔ وکاس راج نے بتایا کہ 31 اکتوبر تک فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کیلئے موصولہ درخواستوں کی 10 نومبر تک یکسوئی کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہندوں کو ووٹر انفارمیشن سلپ پہلے ہی تقسیم کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ رائے دہی کیلئے 2000 پولنگ مراکز قائم کئے جائیں گے۔ شہری علاقوں میں عام طور پر رائے دہی کا فیصد کم رہتا ہے۔ اس مرتبہ شہری علاقوں میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔ ضعیفوں اور معذورین کیلئے 18000 وہیل چیر کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ ریاست میں 9.10 لاکھ نئے نوجوان رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل ہوئے ہیں۔ نوجوان رائے دہندوں کو رائے دہی میں حصہ لینے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ وکاس راج کے مطابق ریاست میں ابھی تک 453 کروڑ مالیت کے اثاثہ جات ضبط کئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں 362 کیسس اور 256 ایف آئی آر درج کئے گئے۔ تلاشی مہم کے سلسلہ میں 250 چیک پوسٹ قائم کئے گئے ہیں۔ ضبط کی گئی نقد رقم کا جائزہ لینے کیلئے ضلع سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور رقومات کے الیکشن سے تعلق نہ ہونے کی صورت میں رقم لوٹادی جائے گی۔ اس سلسلہ میں عہدیداروں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ریاست بھر میں انتخابی عمل کو آزادانہ اور منصفانہ بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وکاس راج کے مطابق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے 137 کیسس درج کئے گئے جن میں بی آر ایس کے خلاف 13 ، کانگریس 16 ، بی جے پی 5 اور بی ایس پی کے خلاف 3 کیسس درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بندھو اسکیم کی امدادی رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے رقم اور دیگر اشیاء کی تقسیم کو روکنے کیلئے سخت قدم اٹھائے گا۔ ریونیو انٹلیجنس کی اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن انتطامات کیلئے 375 سنٹرل فورسس کی کمپنیاں تلنگانہ میں تعینات کی جائیں گی۔ وکاس راج نے بتایا کہ 2 نومبر تک تلنگانہ میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 32188753 درج کی گئی ہے۔