لوک سبھا میں مرکزی وزیر جینت چودھری کی وضاحت، کانگریس رکن کرن کمار ریڈی کی توجہ دہانی
حیدرآباد ۔10۔فروری (سیاست نیوز) مرکزی وزیر جینت چودھری نے لوک سبھا میں واضح کیا کہ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کی اسکل یونیورسٹی کو فنڈس کی اجرائی ممکن نہیں ہے۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران بھونگیر کے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے ضمنی سوال کے ذریعہ مرکزی وزارت اسکل ڈیولپمنٹ سے تلنگانہ کی اسکل یونیورسٹی کو فنڈس کی اجرائی کی درخواست کی۔ مرکزی وزیر اسکل ڈیولپمنٹ جینت چودھری نے کہا کہ اسکل یونیورسٹی کے لئے مرکز فنڈس جاری نہیں کرے گا۔ ریاستی حکومتیں اپنے قانون کے مطابق اسکل یونیورسٹی قائم کر رہی ہے۔ اسکل یونیورسٹی کے قیام کیلئے مرکز کی کوئی اسکیم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق اسکیمات کو مرکز کی جانب سے ہر ممکن مدد کی جائے گی تاکہ نوجوانوں میں اسکل ڈیولپمنٹ کی مہارت میں اضافہ ہو۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں حیدرآباد میں ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے جس میں مقامی صنعتوں کی ضرورت کے مطابق نوجوانوں کو ٹریننگ دی جائے گی ۔ یونیورسٹی نے 17 مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی ہے جس میں پہلے سال 2000 نوجوانوں کو ٹریننگ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 20,000 امیدواروں کو ٹریننگ کا منصوبہ ہے اور حکومت نے یونیورسٹی کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ یونیورسٹی کے لئے 300 تا 500 کروڑ پر مشتمل کارپس فنڈ کے قیام کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے مرکزی وزیر سے سوال کیا کہ آیا مرکزی اسکیمات کے تحت اسکل یونیورسٹی کو فنڈس جاری کئے جاسکتے ہیں۔ مرکزی وزیر جینت چودھری نے کہا کہ اسکل یونیورسٹی کا قیام ریاست کا اپنا معاملہ ہے اور مرکز کے پاس اس سلسلہ میں کوئی اسکیم نہیں ہے ۔ انہوں نے اسکل یونیورسٹی کے لئے مرکزی فنڈس کے امکانات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو اپنے طور پر ضروریات کی تکمیل کرنی ہوگی۔1