تلنگانہ کی سیاست میں 12مارچ اہم دن

   

پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد میں کانگریس ، ایل بی اسٹیڈیم میں بی جے پی ، کریم نگر میں بی آر ایس کے اجلاس
حیدرآباد ۔ 11مارچ ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں 12 مارچ ریاست کی سیاست کیلئے بہت بڑا اہم دن ہونے جارہا ہے ۔ منگل سے تلنگانہ میں لوک سبھا انتخابات کا عملاً آغاز ہورہا ہے ۔ حکمراں جماعت کانگریس مرکز میں برسراقتدار رہنے والی بی جے پی اور اصل اپوزیشن بی آر ایس اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ امیت شاہ ، اے ریونت ریڈی اور کے چندر شیکھر راؤ پارٹی قائدین ، خواتین اور عوام سے خطاب کرنے والے ہیں ۔ تینوں جماعتوں کی جانب سے ان پروگرامس کو کامیاب بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات کے شیڈول کی اجرائی سے قبل تینوں جماعتوں کی جانب سے چند پارٹی امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے ۔ ایک طرف چیف منسٹر ریونت ریڈی مختلف ترقیاتی و تعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے آپ کو عوام کے درمیان رکھے ہوئے ہیں ، دوسری طرف وزیراعظم نریندر مودی بھی 4 اور 5 مارچ کو تلنگانہ کے دورے کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی و تعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ چند افتتاحی پروگرامس میں حصہ لیا ۔ عادل آباد اور سنگاریڈی میں جلسہ عام سے بھی خطاب کیا ۔ کانگریس کی جانب سے 12مارچ کو پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد میں ’’ مہیلا شکتی‘‘ کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو بغیر سودی قرض دینے کی اسکیم کا آغاز کیا جائے گا ۔ بی جے پی کی جانب سے ایل بی اسٹیڈیم میں بی جے پی یوتھ ورکرس کا اجلاس منعقد کیا جارہا ہے جس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ شرکت کریں گے اور پول مینجمنٹ کی پارٹی قائدین کو تربیت دیتے ہوئے مختلف مشورے دیں گے ۔ ساتھ ہی بی آر ایس کی جانب سے 12مارچ کو کریم نگر میں جلسہ عام منعقد کیا جارہا ہے جس کے ذریعہ پارٹی کے صدر کے چندر شیکھرر اؤ بی آر ایس کی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے ۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بی آر ایس کیڈر میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی لوک سبھا انتخابات سے قبل بی آر ایس کے کئی قائدین بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس اور بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں ۔ موجودہ ارکان پارلیمنٹ اور دیگر اہم قائدین پہلے مقابلہ کرنے کیلئے دعویداری پیش کررہے تھے ، اب مقابلہ کرنے سے انکار کررہے ہیں ۔ اس طرح تینوں سیاسی جماعتیں مختلف پروگرامس کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچنے کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ 2