تلنگانہ کی پسماندگی کیلئے بی آر ایس اور کانگریس ذمہ دار: کشن ریڈی

   

بی جے پی پارٹی آفس پر یوم تاسیس تلنگانہ تقریب سے خطاب
حیدرآباد 2 جون (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ بی جے پی و مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ کی پسماندگی کے لئے بی آر ایس اور کانگریس برابر کی ذمہ دار ہے۔ مرکزی حکومت تلنگانہ کو ترقی دینے کے معاملہ میں عہد کی پابند ہے۔ آج ریاستی بی جے پی ہیڈکوارٹر پر تلنگانہ یوم تاسیس کا جشن منایا گیا۔ اِس موقع پر جی کشن ریڈی نے قومی پرچم لہرایا اور خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ کی ترقی میں پہلے بی آر ایس حائل تھی اور اب کانگریس رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کا تلنگانہ سے صفایا پر ہی ریاست کی ترقی ممکن ہے۔ کے سی آر نے پانی کے نام پر سرکاری فنڈس کا بیجا استعمال کیا۔ تلنگانہ تحریک کے دوران ریونت ریڈی نے سونیا گاندھی کو شیطان قرار دیا تھا، لیکن جیسے ہی وہ کانگریس میں شامل ہوکر چیف منسٹر بنے، سونیا گاندھی کو بھگوان قرار دے رہے ہیں۔ کویتا کے مکتوب پر کشن ریڈی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اِس سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ڈیڈی ڈاؤٹر اور سسٹر برادر کا معاملہ ہے۔ درمیان میں بی جے پی کو گھسیٹتے ہوئے سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ کے سی آر سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا بی جے پی نے انھیں اتحاد کرنے یا ان کی پارٹی کو بی جے پی میں ضم کرنے کی بات کی تھی۔ بی آر ایس دور حکومت میں ریاست تلنگانہ 10 لاکھ کروڑ روپئے کی مقروض ہوگئی تھی۔ کانگریس پارٹی بھی بی آر ایس کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ دیڑھ سال کے دوران ریونت ریڈی حکومت نے 2 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ بی آر ایس اور کانگریس ریاست کو ترقی دینے اور عوام کی فلاح و بہبود میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہیں۔ مرکز کی مودی حکومت تلنگانہ کی ترقی کے لئے بڑے پیمانہ پر قرض جاری کررہی ہے۔ ریاست میں نیشنل ہائی ویز کا جال بچھایا جارہا ہے۔ ریلویز کو بڑے پیمانہ پر ترقی دی جارہی ہے۔ ریجنل رنگ روڈ کی منظوری دی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ مرکز کی مختلف فلاحی اسکیمات سے ریاست کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ آئندہ انتخابات میں تلنگانہ میں بی جے پی اقتدار میں آئے گی جس کے بعد بی آر ایس اور کانگریس کی بدعنوانیوں کو منظرعام پر لایا جائے گا اور ذمہ دار قائدین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔2