’’لینڈ جہاد‘‘ کو بڑھاوا ، چیف منسٹر کو مکتوب ، مسئلہ ، گورنر اور مرکزی حکومت سے رجوع کرنے کا اعلان
حیدرآباد۔ 2 مئی (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رگھونندن راؤ نے تلنگانہ کے دینی مدرسوں میں بنگلہ دیشی شہری ہونے کا سنسنی خیز الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر ایک مکتوب روانہ کیا۔ ریاست میں بڑی تیزی سے دینی مدرسوں کی تعداد میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان مدرسوں کی منظوریاں لی جارہی ہیں یا نہیں، اس کی تفصیلات پیش کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا۔ آج بی جے پی اسٹیٹ آفس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ لوک سبھا میدک کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ریاست بھر میں موجود دینی مدرسوں میں کیا غیرقانونی سرگرمیاں جاری ہیں؟ اس کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے عہدیداروں تیار نہیں ہیں۔ اس لئے یہ مسئلہ چیف منسٹر سے رجوع کررہا ہوں۔ اس کے بعد گورنر اور مرکزی وزارت داخلہ کو بھی اس کے تفصیلات فراہم کروں گا۔ رگھونندن راؤ نے کہا کہ ضلع سنگاریڈی جنارم اور سداشیوپیٹ کے درمیان ہائی وے پر موجود مدرسہ کے بارے میں انہیں شکوک و شبہات ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ انہوں نے ایک عام شہری کے طرح جنارم مدرسہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں پتہ چلا کہ صرف تلنگانہ ہی نہیں بلکہ سارے ملک کیلئے حیران کن حقائق منظر عام پر آئے۔ جنارم مدرسہ میں جملہ 70 طلباء زیرتعلیم ہیں، ان میں سے 65 طلباء کا ریاست بہار کے علاقہ کشن گنج سے تعلق ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہیں تعلیم دینے والے اساتذہ کا بھی کشن گنج سے تعلق ہے۔ جنارم ایک چھوٹا منڈل ہے، وہاں بہار سے پہنچ کر طلبہ کو دینی تعلیم حاصل کرنے کی کیوں ضرورت پڑی جس پر کئی شبہات ہیں۔ کشن گنج، بنگلہ دیش کا سرحدی ضلع ہے، بنگلہ دیش کے طلبہ کی جانب سے جنارم پہنچ کر تعلیم حاصل کرنے کا انہیں شبہ ہے۔ بنگلہ دیشی سے براہ راست کشن گنج سے ہوتے ہوئے تلنگانہ پہنچ کر یہ اطلاع مقامی ہندوؤں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ یہاں اراضی خریدتے ہوئے ’’لینڈ جہاد‘‘ کررہے ہیں۔ جنارم کودنڈا رام سوامی مندر سے متعلق اراضی پر دینی مدرسہ کیسے قائم ہوا، عہدیدار اس کی وضاحت کریں۔2