تلنگانہ کابینہ کا 2 جولائی کو اجلاس ، فیس ری ایمبرسمنٹ کی نئی اسکیم پر فیصلہ متوقع

   

حیدرآباد میٹرو ریل اور موسیٰ ندی ترقیاتی منصوبہ ایجنڈہ میں شامل، تفصیلی پراجکٹ رپورٹ پر غور
حیدرآباد ۔29 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی کابینہ کا اجلاس 2 جولائی کو طلب کیا گیا ہے جس میں کئی اہم امور پر فیصلوں کا امکان ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت سے پراجکٹس کی منظوری اور دیگر امور کا جائزہ لینے کیلئے 2 جولائی کے اجلاس کے ایجنڈہ کو طئے کرنے کی چیف سکریٹری کو ہدایت دی ہے ۔ باوثوں ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈہ میں طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم ، موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹس کے پہلے مرحلہ کی تفصیلی رپورٹ اور مرکزی حکومت کی دیہی ضمانت روزگار سے متعلق نئی اسکیم پر عمل آوری جیسے امور شامل ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور نئی اسکیم کے تحت فیس کی رقم کالجس کے بجائے طلبہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔ حکومت نے نئی اسکیم کے بارے میں 6 جون کو جی او نمبر 9 جاری کیا جسے تعلیمی اداروں کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے جی او پر عبوری حکم التواء جاری کیا۔ تعلیمی سال 2026-27 سے ڈائرکٹ بینیفٹ ٹرانسفر سسٹم کے تحت اسکیم پر عمل آوری کا منصوبہ ہے۔ طلبہ کو 2 یا 3 اقساط میں فیس جاری کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کا متحدہ آندھراپردیش میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے 2008 میں آغاز کیا تھا۔ گزشتہ چند برسوں سے فیس ری ایمبرسمنٹ کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا جس پر کالجس کے انتظامیہ نے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2021 سے 10,000 کروڑ کے بقایہ جات ہیں۔ نئی اسکیم کے آغاز کا دارومدار ہائی کورٹ کے فیصلہ پر رہے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے علاوہ حیدرآباد میٹرو ریل فیس II کیلئے کنسلٹنٹ کے تقرر کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔1/k