تلنگانہ کے زیر التواء پراجیکٹس کو منظوری دی جائے ۔ وزیر اعظم سے ریونت ریڈی کی نمائندگی

   

میٹرو ریل توسیعی منصوبہ ‘ موسی ریور پراجیکٹ اور کئی تجاویز کا تذکرہ ۔ فنڈم فراہم کرنے بھی نریندرمودی پر چیف منسٹر کا زور
حیدرآباد۔ 24۔ مئی ۔(سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دورۂ دہلی کے موقع پر وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرکے تلنگانہ کے زیر التواء پراجکٹس کو منظوری دینے کی خواہش کی اور کہا کہ ریاستی حکومت سے مرکزی وزارتوں کو روانہ تجاویز کو مرکز سے زیرالتواء رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ ان پراجکٹس کو مرکزی حکومت کی منظوری کو یقینی بنائیں تاکہ تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی کے منصوبہ پر عمل ہو سکے۔ انہوں نے حیدرآباد میٹرو ریل کے توسیعی منصوبہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ گذشتہ 10 برسوں میں سابقہ حکومت نے شہر میں میٹرو ریل کی توسیع کے اقدامات نہیں کئے جبکہ ریاست میں کانگریس اقتدار کے بعد حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ میں شامل 3 راہداریوں پر کا آغاز کیا جاچکا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ مرکز کو روانہ کی جاچکی ہے۔ مرکزکو روانہ پراجکٹ رپورٹ پر چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ 69 کیلومیٹر پر محیط اس مرحلہ پر عمل کے بعد میٹرو ریل کا جملہ احاطہ 76.4 کیلو میٹر کا ہوجائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اس پراجکٹ کیلئے جو تخمینی لاگت تیار کی ہے اس کے مطابق دوسرے مرحلہ کیلئے 24 ہزار 269 کروڑ کی لاگت آئے گی ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ اس پراجکٹ کو مرکزی حکومت کی مدد کے ساتھ مکمل کیا جائے گا جس میں حکومت ہند 18 فیصد کے اعتبار سے 4230 کروڑ روپئے ادا کرے گی جبکہ ریاستی حکومت سے 30 فیصد تخمینی لاگت 7313کروڑ ادا کئے جائیں گے جبکہ مابقی 48 فیصد 11 ہزار 693 کروڑ قرض حاصل کرکے پراجکٹ کو مکمل کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے وزیر اعظم کو شہری حدود میں میٹرو ریل کی توسیع کی ضرورت سے واقف کروایا اور اس پراجکٹ کیلئے فوری رقمی منظوری و اجرائی کی خواہش کی۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے ریجنل رنگ روڈ کے کاموں کے منصوبہ پر عمل کی خواہش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے مرکز کو تمام تفصیلات روانہ کئے ہیں لیکن یہ بھی مرکز کے پاس زیر التواء ہے۔ انہوں نے اس پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کیلئے درکار منظوریوں کو یقینی بنانے کی خواہش کی۔انہوں نے بتایا کہ اس پراجکٹ کو کابینی و رقمی منظوریاں درکار ہیں۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو ریجنل رنگ ریلوے پراجکٹ کی تفصیل سے واقف کروایا اور کہا کہ اس منصوبہ کے مطابق 370 کیلو میٹر ریلوے لائن کے کاموں کی منظوری کی درخواست کی گئی ہے اگر مرکز سے اسے منظوری دی جاتی ہے تو یہ پراجکٹ تلنگانہ کی ترقی میں انقلابی کردار ادا کرسکتاہے۔ انہوں نے ریجنل رنگ روڈ میں جنوبی حصہ کو شامل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس منصوبہ پر عمل انفارمیشن ٹکنالوجی ‘ لاجسٹک پارکس کیلئے انتہائی معاون ثابت ہوگا اگر مرکز سے پراجکٹ کو منظوری دی جاتی ہے تو ریاستی حکومت 50 فیصد تخمینی لاگت ادا کرنے تیار ہے۔ ریونت ریڈی نے ریاست میں گرین فیلڈ ہائی وے بندر پورٹ یا ڈرائی پورٹ کے درمیان گرین فیلڈ ریلوے لائن کو منظوری دینے کی خواہش کی اور کہا کہ اگر بندرگاہ سے ڈرائی پورٹ تک لائن کو منظوری دی جاتی ہے تو مینوفیکچرنگ مراکز کے قیام میں اضافہ ہوگا۔3
اور تلنگانہ میں مقامی نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل ہونگی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے تلنگانہ میں سیمی کنڈکٹر کی تیاری اور اس کیلئے موجود صلاحیتوں کے استعمال کے علاوہ سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے مراکز کے قیام میں مدد ہوگی ۔ انہو ں نے بتایا کہ حکومت نے تلنگانہ میں 2030 تک 500 بلین ڈالر کی مالیت کے الکٹرانکس کی تیاری کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں دفاعی منصوبوں کیلئے تعاون کی درخواست کی اور کہا کہ حیدرآباد میں کئی سرکردہ دفاعی ادارے اور کمپنیاں ہیں جن میں عالمی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہو ںنے حیدرآباد۔بنگلورو دفاعی راہداری کو منظوری دینے پر زور دیا اور کہا کہ شہر کو آئندہ دفاعی ایکسپو کی میزبانی کی اجازت دی جائے اور دفاعی پالیسی میں معاونت کی خواہش کی تاکہ اسے فروغ دیا جائے اور دفاعی شعبوں میں ایم ایس ایم ای کے ذریعہ ترقی ہوسکے۔3