تلنگانہ کے نئے سکریٹریٹ کا 30 اپریل کی صبح خصوصی پوجا سے افتتاح

   

دوپہر میں چیف منسٹر کے سی آر اور وزراء چیمبرس سنبھال لیں گے
سکریٹریٹ کی خصوصیات اور سہولتوں کے بارے میں 3D ویڈیو کی اجرائی
حیدرآباد۔/15 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے نئے سکریٹریٹ کا 30 اپریل کی صبح 6 بجکر 8 منٹ پر خصوصی پوجا کے ذریعہ افتتاح عمل میں آئے گا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئے عالیشان سکریٹریٹ جسے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے موسوم کیا گیا ہے افتتاح کیلئے پنڈتوں اور نجومیوں سے مشاورت کے بعد مہورت طئے کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر، ریاستی وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ خصوصی پوجا میں شرکت کریں گے اور دوپہر ایک بجکر 20 منٹ پر چیف منسٹر اپنے چیمبر میں کرسی سنبھالیں گے۔ ریاستی وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کیلئے بھی اپنے چیمبرس میں نشستیں سنبھالنے کیلئے یہی وقت مقرر کیا گیا ہے۔ سکریٹریٹ میں وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کو چیمبر الاٹمنٹ کا کام 20 اپریل تک مکمل کرلیا جائے گا تاکہ وہ 30 اپریل کو اپنے چیمبر میں باقاعدہ کام کا آغاز کریں۔ واضح رہے کہ حکومت نے 17 فروری کو افتتاح کا پروگرام بنایا تھا لیکن ایم ایل سی انتخابات کے پیش نظر انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ کیا گیا جس کے نتیجہ میں افتتاحی تقریب کو 30 اپریل کیلئے ملتوی کیا گیا۔ اسی دوران عہدیداروں نے نئے سکریٹریٹ کی عصری سہولتوں اور عالیشان عمارت کے بارے میں 3D ویڈیو جاری کیا ہے۔ چینائی سے تعلق رکھنے والے آرکیٹیکٹس پونی کانسے ساؤ اور آسکر کانسے ساؤ نے سکریٹریٹ کا ڈیزائن تیار کیا ہے جس میں مختلف تہذیبوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ انڈو اسلامک آرکیٹکچر کے تحت عمارت پر گنبدوں کو تعمیر کیا گیا۔ سکریٹریٹ میں وزراء اور عہدیداروں کے چیمبرس کے علاوہ مسجد، مندر اور چرچ بھی شامل رہے گا۔ وزیٹرس، پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ کیلئے علحدہ سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ سکریٹریٹ کے اندرونی حصہ اور اطراف گرینری نے عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کردیا ہے۔ درمیانی حصہ میں خوبصورت فاونٹین تعمیر کیا گیا۔ اہم شخصیتوں اور اسٹاف کیلئے مناسب پارکنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ عمارت میں کئی کانفرنس ہالس، وزیٹرس لانچ اور ڈائیننگ ہال موجود ہیں۔ حسین ساگر کے دامن میں 7 منزلہ انتہائی عصری سہولتوں سے آراستہ کامپلکس کی تعمیر تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور آخری مراحل کی فنیشنگ کا کام جاری ہے۔ چیف منسٹر اور وزراء کے چیمبرس میں فرنیچر کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ 7 لاکھ مربع فیٹ پر تعمیر کردہ سکریٹریٹ پر 600 کروڑ سے زائد کا خرچ آیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے27 جون 2019 کو نئے سکریٹری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ڈسمبر 2020 میں تعمیری کاموں کا آغاز ہوا۔ عہدیداروں کے مطابق سکریٹریٹ تقریباً 20 ایکر اراضی پر محیط ہے۔ عمارت کی چھٹویں منزل پر چیف منسٹر کا آفس رہے گا جبکہ وزراء کے چیمبرس بھی چیف منسٹر کے بلاک میں رہیں گے۔ پہلی اور دوسری منزل جی اے ڈی اور فینانس کے دفاتر کیلئے مختص کی گئی ہیں۔ر