تلنگانہ کے 10 اضلاع کورونا ہاٹ اسپاٹ میں تبدیل

,

   

اضلاع میں کیسس میں اضافہ، حکام کیلئے باعث تشویش،بین ریاستی حمل و نقل اہم وجہ

حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کے کیسس میں مسلسل اضافہ درج کیا جارہا ہے اور گریٹر حیدرآباد کے مقابلہ ریاست کے دیہی علاقے کورونا کے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر اُبھرے ہیں۔ ریاست میں کورونا کے آغاز کے بعد سے کئی اضلاع میں کیسس کی تعداد صفر تھی اور انہیں کورونا سے پاک اضلاع کی حیثیت سے شمار کیا گیا تھا لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران شہر کے مقابلہ اضلاع میں کیسس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 10 اضلاع کورونا کی بری طرح زد میں ہیں۔ کورونا کے کیسس میں تیزی سے اضافہ والے اضلاع میں کتہ گوڑم، کھمم، محبوب نگر، نلگنڈہ اور بھونگیر شامل ہیں۔ ریاست کے تمام 33 اضلاع کورونا کی زد میں ہیں اور روزانہ نئے کیسس کا منظر عام پر آنا حکام کیلئے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابتداء میں شہری علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی اور اضلاع میں ٹسٹوں کی تعداد کم رہی اور علاج کی سہولتوں پر خاص توجہ نہیں تھی جس کے نتیجہ میں اچانک کیسس میں اضافہ کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف کے اضلاع میں کورونا ٹسٹنگ کی بہتر سہولتیں موجود ہیں جبکہ اضلاع میں صرف خانگی ہاسپٹلس میں کورونا ٹسٹنگ کی سہولت دستیاب ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان عوام کی نقل و حرکت میں اضافہ کورونا میں اضافہ کی اہم وجہ ہے۔ آندھرا پردیش کیسس کے اعتبار سے مہاراشٹرا کے بعد ملک کی دوسری بڑی ریاست بن چکی ہے اس نے تاملناڈو کو کورونا کیسس میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

حیدرآباد، کریم نگر، نلگنڈہ ، کھمم اور بعض دیگر علاقوں میں آندھرا پردیش سے عوام کی منتقلی نے صورتحال کو سنگین بنادیا ہے۔ مائیگرنٹ ورکرس کی آبائی مقامات واپسی اور کورونا سے بچنے کیلئے شہر سے کئی خاندانوں کی دیہی علاقوں کو روانگی کے نتیجہ میں کورونا کے کیسس میں اضافہ کا اندازہ کیا گیا۔ کورونا کے موجودہ کیسس میں اپریل تک 90 فیصد کیس گریٹر حیدرآباد حدود سے درج کئے جارہے تھے۔ مئی تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی تاہم جون سے اضلاع میں کیسس بڑھنے لگے۔ کریم نگر، کاماریڈی، محبوب نگر، میدک اور بھوپال پلی میں درمیان میں کیسس کی رفتار کم تھی لیکن گذشتہ ماہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق جو 10 اضلاع کورونا کی بری طرح زد میں ہیں ان میں سدی پیٹ، محبوب آباد، منچریال، نارائن پیٹ، پداپلی، بھدرادری، ناگرکرنول، رنگاریڈی، سنگاریڈی اور جگتیال شامل ہیں۔