تلنگانہ کے 30 میونسپلٹیز میں تحریک عدم اعتماد کی نوٹس، 15 مقامات پر صدورنشین بیدخل

   

9 مقامات پر نئے صدورنشین کا انتخاب، 28 فبروری کو مزید 6 مقامات پر نئے صدورنشین کا انتخاب ہوگا
حیدرآباد۔/22 فبروری، ( سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد دیہی علاقوں کی سیاسی صورتحال بھی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے منتخب عوامی نمائندوں نے ماضی میں بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بی آر ایس کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سیاسی حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ بی آر ایس کے مقامی عوامی منتخب نمائندے اب کانگریس میں شامل ہورہے ہیں۔ ماضی میں کانگریس سے مستعفی ہوکر بی آر ایس میں شامل ہونے والے مقامی عوامی منتخب نمائندے بھی اب دوبارہ کانگریس میں شامل ہورہے ہیں جس سے ریاست کے میونسپلٹیز میں تحریک عدم اعتماد قرارداد منظور کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تاحال ریاست بھر کے 34 میونسپلٹیز اور کارپوریشنس میں چیرپرسن وائس چیرمین، ہائیر و ڈپٹی میئرس کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرتے ہوئے نوٹس جاری کی گئی ہے جس کے پیش نظر 30 مقامات پر خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے امتحان میں شکست سے دوچار ہونے والے 15 قائدین کو عہدوں سے بیدخل کرتے ہوئے حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد قرارداد میں شکست سے دوچار ہونے والے 9 صدورنشین اور نائب صدورنشین کی جگہ نئے صدورنشین اور نائب صدور نشین کا انتخاب بھی ہوگیا ہے۔ محبوب نگر، نریڈ چرلہ، کوداڑ، بھوپال پلی، تسپور، منچریال، نلگنڈہ، ویملواڑہ، نرسا پور میونسپلٹیز میں یہ عمل مکمل ہوگیا ہے۔ مزید 6 میونسپلٹیز جگتیال، بھونگیر، خانہ پور، حضور نگر، سلطان آباد، نارائن کھیڑ میں جاریہ ماہ 28 فبروری کو خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے نئے صدورنشین اور نائب صدورنشین کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ناگارام، منی کنڈہ، تمکنٹہ اور توپران میونسپلٹیز میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد سے متعلق نوٹس جاری کردی گئی ہے تاہم خصوصی اجلاس کی تاریخوں کو قطعیت نہیں دی گئی ہے۔ ساتھ ہی بنڈلہ گوڑہ جاگیر، جواہر نگر میونسپل کارپوریشن میئرس کے خلاف تحریک عدم اعتماد قرارداد کی نوٹس زیر التواء ہے۔ ریاست تلنگانہ کے 142 میونسپلٹیز اور کارپوریشنس میں تاحال 24 مقامات پر تحریک عدم اعتماد کی نوٹسیں جاری ہوئی ہیں۔ مستقبل میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ کانگریس پارٹی کو تنظیمی سطح بالخصوص دیہی اور شہری علاقوں میں مستحکم کرنے کیلئے وزراء اور کانگریس کے اسمبلی حلقوں میں موجود بیشتر میونسپلٹیز پر لوک سبھا انتخابات سے قبل قبضہ کرنے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کام کررہی ہے۔2