تلنگانہ گولڈن کے بجائے شمشان تلنگانہ میں تبدیل

   

انجن کمار یادو کا الزام، عثمانیہ ہاسپٹل کی ابتر صورتحال کیلئے حکومت ذمہ دار
حیدرآباد۔ صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی انجن کمار یادو نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت نے تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کورونا وباء کے سبب ریاست گولڈن کے بجائے شمشان تلنگانہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ایک طرف عوام کورونا سے پریشان ہیں تو دوسری طرف حکومت 500 کروڑ کے خرچ سے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کی تیاری کررہی ہے۔ موجودہ عمارتیں کافی مضبوط ہیں اور انہیں کوویڈ ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کے بجائے منہدم کرتے ہوئے اپنے مقصد کی تکمیل کی جارہی ہے۔ انہوں نے گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹلس کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بنیادی طبی سہولتوں سے محرومی کے سبب اموات واقع ہورہی ہیں۔ عوام سرکاری ہاسپٹلس کا رُخ کرنے سے گھبرارہے ہیں کیونکہ گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹلس کو جانا دراصل موت کو دعوت دینا ہے۔ دوسری طرف خانگی ہاسپٹلس عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے علاج کی شرحیں مقرر کرنے کے باوجود لاکھوں روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ انجن کمار یادو نے عثمانیہ ہاسپٹل کی ابتر صورتحال کا حوالہ دیا اورکہاکہ بارش کے سبب عثمانیہ ہاسپٹل کے کئی وارڈ پانی سے لبریز ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نظرانداز کرنے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ۔ نظام حیدرآباد نے عوام کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے عثمانیہ ہاسپٹل تعمیر کیا تھا لیکن آج یہ دواخانہ عوام کیلئے علاج کے لائق نہیں رہا اور وہاں رجوع ہونے والے سینکڑوں مریضوں کو مایوسی کا سامنا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک تعمیری کام کا آغاز نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جان بوجھ کر عثمانیہ ہاسپٹل کو نظرانداز کیا جارہا ہے تاکہ کارپوریٹ ہاسپٹلس کا فائدہ ہو۔