تلگو لڑکی کو چلڈرنس کلائمیٹ پرائز

   

سراٹوگا ، امریکہ میں مقیم ریشماکوسا راجو نے جنگل کی آگ کی پیش قیاسی کرنے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل بنایا
حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : جنگل کی آگ ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے جس کی وجہ دنیا بھر میں 3,39,000 اموات ہوتی ہیں اور اس سے جانوروں اور نیچر کی تباہی سے بائیو ڈائیورسٹی کو خطرہ لاحق ہے ۔ دنیا اس مسئلہ کا ہنوز حل تلاش کرنے میں ہے جب کہ جنگل کی آگ سے متعلق پیشگی بتانے پر اے آئی ٹکنالوجی کے استعمال پر ریشما کوسا راجو کے پراجکٹ کو چلڈرنس کلائمیٹ پرائز 2021 حاصل ہوا ہے ۔ سراٹوگا ، امریکہ کی 15 سالہ تلگو لڑکی ریشما کے جنگل کی آگ سے متعلق پیش قیاسی کرنے کے اختراعی اور حل پر مبنی پراجکٹ کو انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔ جنگل کی آگ کے خلاف آرٹیفیشیل انٹلی جنس ۔ اس پراجکٹ میں جنگل کی آگ بھڑک اٹھنے کے بارے میں تقریبا 90 فیصد صحیح طور پر پیش قیاسی کی جاسکتی ہے ۔ اس میں اوپن ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے درجہ حرارت ، رطوبت ، مٹی کی نمی ، اور اس میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کہاں اور کب جنگل کی آگ بھڑکنے کا امکان ہے ۔ ریشما نے اس امید کا اظہار کیا کہ چلڈرنس کلائمیٹ انعام سے اس کے پراجکٹ پر توجہ مرکوز ہوگی اور اس طرح زیادہ لوگ AI ماڈل کی موجودگی کے بارے میں واقف ہوں گے ۔ اس لڑکی نے کہا کہ ’ میں بہت خوش ہوں اور مجھے امید ہے کہ اس کامیابی سے زیادہ لوگ جنگل کی آگ کے خلاف مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کے بارے میں سنیں گے اور یہ جنگل کی آگ کے بارے میں پیشگی بتانے کے لیے ایک عالمی ٹول ہوجائے گا ۔ میری خاص طور پر ان لوگوں سے جو جنگل کی آگ بھڑکنے کے خطرہ والے علاقوں میں رہتے ہیں اس پراجکٹ کو بروے کار لانے کے بارے میں واقف ہوں کیوں کہ اچھی طرح بچاؤ کے لیے تیاری کی جاسکتی ہے ‘ ۔۔