مساجد بلڈوزر کی زد میں … یوگی حکومت کا بھڑکتا چراغ
مودی کے ’’ناراض پھوپا ‘‘ …سوال سے ڈر لگتا ہے
رشیدالدین
چراغ جب بھڑکنے لگ جائے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بجھنے کا وقت قریب آگیا۔ کسی سماج میں جب ظلم و ناانصافی عروج پر ہو تو اسے زوال کا آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ظلم جب حد سے گزرتا ہے تو مٹ جاتا ہے کے مصداق ملک میں مودی حکومت کے زوال کے دن قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ، مساجد ، درگاہوں اور دینی مدارس پر بلڈوزر کارروائیاں مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی شخصیتوں کے خلاف جھوٹے مقدمات اور جیل کی صعوبتوں کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ بجھنے سے قبل بی جے پی حکومت کا چراغ بھڑکنے لگا ہے ۔ ایک طرف کانگریس نے راہول گاندھی کی قیادت میں مرکزی حکومت کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ہے تو دوسری طرف Gen-Z اور Gen-Alpha نے نہ صرف حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا بلکہ عدلیہ کے ہوش ٹھکانے پر لاتے ہوئے ذمہ داری کا احساس دلایا۔ سہارنپور میں کلکٹریٹ کے احاطہ میں مسجد کے انہدام کا زخم ابھی تازہ تھا کہ مراد آباد کی مسجد مصطفیٰ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نوٹس بھی جاری کردی گئی۔ پتہ نہیں کس دن اچانک مسجد پر بلڈوزر چلادیا جائے ۔ بابری مسجد کے بعد کاشی اور متھرا کی مساجد سنگھ پریوار کے نشانہ پر تھے لیکن نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہر مسجد اور مدرسہ بی جے پی کی نظروں میں کھٹک رہا ہے ۔ سہارنپور کی مسجد 100 سال سے زائد قدیم ہے اور بتایا جاتا ہے کہ مسجد کے لئے اراضی کا عطیہ دینے والوں نے کلکٹریٹ کیلئے بھی زمین کا عطیہ دیا تھا لیکن مسجد غیر قانونی اور غیر مجاز قرار دے دی گئی جبکہ مقامی عدالت میں مسجد کے حق میں 37 دستاویزات پیش کئے گئے لیکن جج نے دستاویزات کا جائزہ لینے کے بجائے ایک انفرادی شکایت پر مسجد کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت کو اسی موقع کا انتظار تھا ، لہذا رات کی تاریکی میں مسجد کو مسمار کردیا گیا۔ سہارنپور سٹی کورٹ کا فیصلہ بابری مسجد کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی طرح ہے۔ بابری مسجد کے حق میں تمام ثبوت ، گواہ اور دستاویزات کے باوجود عدالت نے آستھا کی بنیاد پر مندر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر تعمیر نہیں کی گئی اور مسجد میں چوری سے مورتیوں کو رکھا گیا۔ باوجود اس اعتراف کے مسجد کی اراضی کو رام مندر کے حوالے کردیا گیا۔ اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مسجد کے حق میں ثبوت کا اعتراف کیا ورنہ تاقیامت مسلمانوں پر مندر منہدم کر کے مسجد تعمیر کرنے کا الزام لگ جاتا۔ اترپردیش میں مساجد اور دینی مدارس کو چن چن کرنشانہ بنایا جارہا ہے۔ گجرات کو ہندوتوا کی پہلی لیباریٹری کہا جاتا تھا اور اب تو اترپردیش ، آسام ، اتراکھنڈ ، راجستھان اور مغربی بنگال کو بھی ہندوتوا کی تجربہ گاہوں میں تبدیل کردیا گیا جہاں روزانہ مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی معاملہ منظر عام پر ضرور آتا ہے۔ سڑکوں پر نماز پر پابندی ، لاؤڈ اسپیکر پر اذاں پر امتناع ، حد تو یہ ہوگئی کہ کسی عوامی مقام پر نماز کی ادائیگی پر مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی غذاؤں پر نظر رکھتے ہوئے بیف کا شبہ ہونے پر ماب لنچنگ کی جاتی ہے۔ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل یوگی ادتیہ ناتھ حکومت کا چراغ بھڑکنے لگا ہے۔ کہاوت مشہور ہے کہ ملک میں اقتدار کا راستہ اترپردیش سے ہوکر گزرتا ہے۔ موجودہ حالات میں کہاوت بدل کر یوں ہوچکی ہے کہ اترپردیش کی کرسی اگر جاتی ہے تو مرکز میں بھی زوال یقینی ہوتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اترپردیش میں یوگی حکومت کے زوال کا بگل بج چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعہ یوگی اپنا اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کی بڑھتی مقبولیت بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ ویسے بھی تاریخ شاہد ہے کہ جب کسی نے مساجد کو شہید کیا تو اس کی حکومت اور اقتدار تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں ظلم اور ہراسانی نے تمام حدود کو پار کرلیا ہے لیکن مسلمانوں پر سناٹا طاری ہے۔ عام مسلمان ہو کہ مذہبی و سیاسی قیادتیں ، ان پر خوف واضح طورپر دکھائی دے رہا ہے۔ ہر کوئی اپنی خیر منا رہا ہے کہ حکومت کی مخالفت پر کہیں بلڈوزر گھر پر نہ آجائے۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی سرکردہ سیاسی اور مذہبی شخصیتوں کو جیل میں ڈال دیا گیا اور برسوں سے ان کی ضمانت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مقدمات ، جیل اور بلڈوزر کا خوف کچھ اس طرح طاری ہے کہ کوئی بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے تیار نہیں۔ اعظم خاں کے خلاف مقدمات کا یہ حال ہے کہ ایک معاملہ میں ضمانت ہوتے ہی دوسرا مقدمہ درج کرتے ہوئے جیل سے نکلنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردی جاتی ہے۔ اب تو مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی بھی یوگی حکومت کے نشانہ پر ہے۔ مولانا کلیم صدیقی اور مولانا توقیر رضا خاں کی مثال ہمارے سامنے ہے، ان میں ایک بریلی فساد کے الزام میں ستمبر 2025 سے جیل میں ہیں جبکہ مولانا کلیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کو 2021 میں گرفتاری کے بعد عدالت میں عمر قید کی سزا سنائی۔ اترپردیش ہی نہیں دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ صرف زبانی مذمت اور احتجاج پر اکتفاء کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کے ایک سیاسی رہنما اکثر علماء سے کہا کرتے تھے کہ صرف میٹھا کھانا سنت نہیں بلکہ جیل کی صعوبتیں بھی انبیاء کی سنت ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے مسلم قیادتوں پر خوف کا کچھ ایسا ماحول پیدا کردیا کہ ہر کوئی دوسرے کے دکھ درد میں شامل ہونے کے بجائے اپنی خیر منانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ملک میں نریندر مودی سے سوال کرنے پر صرف میڈیا کیلئے پابندی نہیں بلکہ عام آدمی اور جہدکار بھی مودی اور حکومت سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے سوال کرنے والوں کو دماغی نکسل کا خطاب دیا تھا اور اب انہوں نے ’’ناراض پھوپا‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کے ہر کام پر تنقید کرنا بعض سیاستدانوں اور جہد کاروں کا شعار بن چکا ہے۔ راہول گاندھی نے چھاتروں کی گونج کے عنوان سے ملک کے مختلف شہروں میں Gen-Z سے خطاب کیا۔ راہول گاندھی کے کامیاب پروگراموں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر 75 سالہ نریندر مودی Gen-Z کے درمیان پہنچ کر فرینڈس کہنے لگے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ نریندر مودی Gen-Z کو فرینڈس کے بجائے مائی ڈیئر گرینڈ سنس اینڈ ڈاٹرس یعنی پوتا پوتی کہہ کر مخاطب کریں تاکہ نانا اور دادا کی شکل میں مودی کی بات کم از کم دلوں میں اتر جائے۔ نریندر مودی سوال کرنے والوں کو دماغی نکسل اور ناراض پھوپا بھلے ہی کہیں لیکن نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جہدکاروں کے خلاف فرضی مقدمات کا یوں تو ایک تسلسل ہے لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور مزدوروں کیلئے لڑنے والی جہدکار آکروتی چودھری کے خلاف NSA دفعات کے تحت مقدمہ کو کالعدم کرتے ہوئے یوگی حکومت کو پھٹکار لگائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گوتم بدھ نگر جسے نوئیڈا بھی کہا جاتا ہے، وہاں کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میدھا روپم نے نوجوان جہدکار کے خلاف NSA کے تحت مقدمہ کو منظوری دی اور وہ 5 ماہ سے جیل میں ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سریدھرن اور اے سچدیوا پر مشتمل بنچ نے این ایس اے مقدمہ نہ صرف خارج کیا بلکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی تنخواہ سے پانچ لاکھ روپئے کا جرمانہ متاثرہ لڑکی کو ادا کرنے کی ہدایت دی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میدھا روپم دراصل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی دختر ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس طرح والد الیکشن کمشنر کے طور پر حکومت کے اشارہ پر کام کر رہے ہیں ، دختر نے بھی یوگی حکومت کے اشارہ پر آکروتی چودھری کو بے بنیاد الزامات کے طرح مقدمہ کی منظوری دی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے جنوری 2018 سے ڈسمبر 2022 تک این ایس اے کے تحت 120 مقدمات میں 94 مقدمات کو کالعدم کردیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یوگی حکومت سوال کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہیں۔ جسٹس سریدھرن نے مختلف مواقع پر یوگی حکومت کے عہدیداروں کی سرزنش کرتے ہوئے بے لگام افسر شاہی ، قانون کا مذاق مت بنایئے ، انتقام کے لئے سرکاری طاقت کا استعمال نہ کریں اورکرسی سنبھل نہیں رہی تو چھوڑدیں جیسے ریمارکس کرتے ہوئے یوگی حکومت کی کارکردگی کو بے نقاب کیا ہے۔ ڈرے اور سہمے مسلمانوں کی ترجمانی ندیم شاد نے کچھ اس طرح کی ہے ؎
تمہارے ظلم نے احسان یہ کیا مجھ پر
جو مجھ میں مرنے کا ڈر تھا وہ مرنے والا ہے