توانائی کا بحران، جرمنی کی نگاہ شمسی توانائی پر

   

برلن۔ یوکرینی جنگ نے جرمنی کا روسی گیس پر بے حد انحصار کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اب جرمنی کی کوشش ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر شمسی توانائی کے شعبے میں نمائندہ کردار کا حامل ہو جائے۔ ماضی میں جرمنی شمسی توانائی کے حوالے سے پاور ہاؤس کہلاتا رہا ہے لیکن روسی گیس پر جرمنی کے انحصار کے سبب یہ شعبہ توجہ سے محروم ہو گیا تھا۔ جرمنی بلکہ یورپ بھر کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ ایک طرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اہداف ہیں اور دوسری جانب یوکرینی جنگ کے تناظر میں روس سے قدرتی گیس کی ترسیل مسائل کا شکار ہے۔ ایسے میں یورپ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ جرمنی اس وقت مشکل صورت حال کا شکار ہے۔ ایک طرف جرمنی کا سستی روسی قدرتی گیس پر انحصار ہے، جس سے وہ اپنی صنعتیں چلاتا ہے اور دوسری طرف ایسے کئی بجلی گھر بھی ہیں، جو گیس سے بجلی بناتے ہیں۔ ایسے میں مناسب اور فوری متبادل تلاش کرنا قریب ناممکن ہے۔ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے حل تو کئی ہیں، مثال کے طور پر نیوکلیر بجلی اور پون چکیاں، لیکن جرمنی اپنے تمام نیوکلیر بجلی گھر رواں سال کے آخر تک بند کر رہا ہے، جب کہ بڑے بڑے ونڈٹربائن لوگوں اپنے گھروں کے پاس دیکھنا نہیں چاہتے۔