چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے دعوت نامہ نہ ملنے کی شکایت کی ، سابق چیف منسٹر کرناٹک کمارا سوامی دور رہے
2019 میں کوشش ناکام ہوئی تھی کیا 2024 میں کامیاب ہوگی سوالیہ نشان ، مستقبل کی کوئی حکمت عملی نہیں
حیدرآباد /20 جنوری ( سیاست نیوز ) اپوزیشن جماعتیں آئندہ سال 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا متبادل تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گی یا پھر 2019 کی طرح ناکام ہوجائیں گی ۔ کھمم میں منعقدہ بی آر ایس کے جلسہ عام کے بعد قومی سطح کے سیاسی حلقوں میں یہ بات موضوع بحث بن گئی ہے ۔ کھمم میں بی آر ایس کا پہلا جلسہ عام منعقد ہوا جس کے دوسرے دن بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے انہیں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے دعوت نامہ وصول نہ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے ۔ نتیش کمار نے کہا کہ ان کا سپنا ہے کہ اس مرتبہ تمام ہمخیال اور سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتیں متحد ہوجائے اور بی جے پی کو شکست دینے کیلئے متحدہ طور پر کام کریں ۔ واضح رہے کہ اس جلسہ عام میں کرناٹک کے سابق چیف منسٹر کمارا سوامی بھی غیر حاضر رہے ہیں ۔ جبکہ انہو ںنے بی آر ایس کی تشکیل کے موقع پر حیدرآباد میں موجود تھے اور دہلی میں بی آر ایس کے قومی ہیڈکوارٹر کے افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی تھی تاہم جب قومی سطح پر نیا محاذ تشکیل دینے کا پیغام دینے کیلئے کھمم میں جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ اس سے کمارا سوامی نے دوری اختیار کی تھی جس کے بعد چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ کھمم کے جلسہ عام میں عام آدمی پارٹی کے دونوں چیف منسٹرس اروند کجریوال ( دہلی ) بھگونت مان سنگھ ( پنجاب ) چیف منسٹر ( کیرالہ ) وجین سابق چیف منسٹر ( اترپردیش ) اکھلیش یادو سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈی راجہ نے شرکت کی توقع کی جارہی تھی ۔ اس اجلاس میں دوسرے تمام قائدین شرکت کریں گے لیکن ان کے شرکت نہ کرنے نئی بحث شروع ہوئی ہے ۔ اور کہا جارہا ہے کہ بننے سے قبل نیا محاذ بکھرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ بی آر ایس کے جلسہ عام کے بعد عوام میں یہ تاثر پایا جارہا ہے ۔ بیشتر قائدین اس جلسہ عام سے دوری اختیار کی ہے ۔ گذشتہ تین سال سے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ملک کے مختلف ریاستوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے چیف منسٹرس اور پارٹیوں کے سربراہ کے علاوہ دوسرے ِاہم قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں ۔ انہیں مختلف موضوعات مثلاً بیروزگاری ، معیشت کے استحکام ، پانی کے استعمال ، زرعی شعبہ کی ترقی پر اپنی جانب سے تیار کردہ ایجنڈے سے واقف کرا رہے ہیں ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ، ممتا بنرجی ، چیف منسٹر تاملناڈو اسٹالن چیف منسٹر جھارکھنڈ سورین ، چیف منسٹر اڈیشہ نوین پٹنائیک سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا اُدئے ٹھاکرے ، این سی پی کے سربراہ شردپوار کے علاوہ دوسروں سے ملاقات کی ہے ۔ ان میں بیشتر قائدین نے دہلی میں بی آر ایس ہیڈ کوارٹر کے افتتاحی پروگرام میں شرکت نہیں کی جبکہ اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا تمام پارٹیوں کے سربراہوں کے علاوہ تمام پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ دہلی میں موجود تھے ۔ دہلی کے پروگرام میں شرکت کرنے والے کمارا سوامی کھمم جلسہ عام سے دوری اختیارکی ۔ یہاں تک کہ راشتریہ جنتا دل کے نوجوان قائد تیجسوی یادو بھی جلسہ عام میں شرکت نہیں کی ۔ دوسری جانب آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں کھمم جلسہ عام میں کوئی دعوت نامہ وصول نہیں ہوا ۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری تیاگی نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نصف اتحاد سے بی جے پی کو شکست نہیں دیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو شکست دینے کیلئے کانگریس ، ترنمول کانگریس ، بی جے ڈی ، تلگودیشم ، جے ڈی ایس کے علاوہ غیر بی جے پی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ان تمام جماعتوں میں اتحاد کے بغیر متبادل محاذ تیار نہیں ہوسکتا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کانگریس کے بغیر تیسرے مجاز کی باتیں کر رہے ہیں ۔ جس کو قبول کرنے کیلئے کئی سیکولر جماعتیں تیار نہیں ہے ۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے بعد دہلی پہونچکر تمام ہمخیال اور سیکولر نظریات سے تعلق رکھنے والے قائدین سے ملاقات کرینگے ۔ کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری طارق انور نے کہا کہ کانگریس کے بغیر تیسرے محاذ کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ ن