نئی دہلی، 2 جون (یواین آئی) کانگریس نے مغربی ایشیا میں کشیدگی اور ایران-امریکہ مذاکرات کے ہندستان پر ممکنہ اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ہندستان کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے اور ایسی صورت حال میں وزیر اعظم نریندرمودی کی خاموشی کو مناسب نہیں کہا جا سکتا۔پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے ، جس کا براہِ راست فائدہ ہندستان کو پہنچے گا۔کانگریس کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مغربی ایشیا میں جنگ جیسی صورتحال کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری ہے تاہم اس دوران لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی کے باعث کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور دنیا کے کئی ممالک بھی لبنان میں اسرائیلی مہم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل کی کارروائیاں ممکنہ امریکہ-ایران معاہدے کو متاثر کر سکتی ہیں، مسٹر مودی نے اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کی یہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے ، جبکہ اس پورے معاملے کے اثرات ہندستان کی توانائی سلامتی اور تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔