تین سال بعد ہندوستانی کے طور پر واپسی کرنے والے آسام کے دیہاتی کو ”بنگلہ دیشی“ کے طورپر تحویل میں لیاگیاتھا

,

   

مئی7کے روز گول پارا سنٹرل جیل چھوڑنے کے دوران راحت علی نے جیل سپریڈنٹ سے وعدہ کیاہے کہ وہ تین سال تک ان کا ”گھر“ رہ اس مقام کے متعلق کچھ غلط بیانی نہیں کریں گے

گوہاٹی۔ غیر ملکی ٹربیونل(ایف ٹی) کی جانب سے غیر ملکی قراردیئے جانے والے لوگوں کے لئے آسام کے جیل حراستی مراکز کی وجہہ سے دوگنا تبدیل ہوگئے ہیں۔

پوری ریاست میں ایک سو کے قریب ایک ایف ٹی ہیں جہاں پر 1962میں تشکیل دے گئے ایک برائے 1946کے تحت بنگلہ دیش او رآسام سے ہندوستان کوچ کرنے والے لوگوں کو ہندوستان اور اس کے بعد یہاں پر آنے والے لوگوں کو غیر ملکی قراردیا گیا ہے۔

مسٹر علی نے کہاکہ”میں نے ان سے وعدہ کیاہے“۔ انہوں نے کہاکہ ”وہ پر زندہ لاش کی طرح جینے کے بجائے موت اچھی ہے“۔

تقریبا 60سال قبل اسکول کی تعلیم سے محروم ہونے والے مسٹر علی کو اعدادوشمار کی بہت ہی کم جانکاری ہے جو ان کے ووٹر شناختی کارڈ پر درج 55سال کی ہے جبکہ وہ درحقیقت ”66“سال کی ہے‘ جب انہوں نے 2015میں مذکورہ ٹریبونل کو اپنے دستاویزات داخل کئے تھی۔

ان کے مختلف دستاویزات میں راحت علی کے بجائے ”ریجاعلی“۔ مگر محروس زندگی نے انہیں بہت کچھ سیکھا ہے‘ ان کے ساتھی قیدیوں میں چار لوگ تناؤ کے عالم میں فوت ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ”میں کیسے فراموش کرسکتاہوں کہ بنگلہ دیشی کے طور پر جو وقت میں نے گذارا ہے؟میرے آزاد ہونے سے قبل 1197دنوں تک میرے اندر کے ہندوستانی کو وہ لوگ ہر روز مارتے رہے“۔ گرفتاری کے بعد سے ان کی اہلیہ نیم بیہوشی کے عالم میں چلی گئی۔

اپنی مغموم آواز میں انہوں نے کہاکہ ”میرے بیٹے نے کبھی نہیں بتایا کہ اس نے میرے کیس میں مجھ پر لگائے سات لاکھ روپئے اکٹھا کرنے کے لئے زمین کو ایک تکڑا رہن رکھ دیا ہے اور اور اٹھ گائے کے علاوہ کمرشیل گاڑی بھی فروخت کردی ہے“۔

انہوں نے کہاکہ جیل میں ان کے ساتھی ہر روز خواب میں اکر اپنی موت کی دعاء مانگتے ہیں۔ انہو ں نے تعجب کرتے ہوئے کہاکہ ”جب وہ جیل سے رہا کئے گئے تھے‘ اسی روز پچیس لوگوں کو جیل لایاگیاتھا۔ پانچ کمروں میں و ہ کیسا رہ سکیں گے۔ کمرے میں پہلے سے 70-80لوگ جمع ہیں؟“

۔انہیں امید ہے کہ 31جولائی تک این آرسی کی تکمیل کے بعد بہت سارے لوگوں کو راحت ملے گی