تعطیلات میں توسیع، نصاب کی عدم تکمیل، ادخال فیس کی تاریخ میں توسیع
حیدرآباد ۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) دسویں جماعت کے امتحانات کا انعقاد جاریہ سال بھی شیڈول کے مطابق منعقد ہونا مشکل نظر آرہا ہے۔ موجودہ حالات کورونا کی تیسری لہر سے پیدا شدہ حالات میں شیڈول کے مطابق امتحانات کو منعقد کرنا حکام کیلئے مشکلات کا سبب بن گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی دوبارہ کشادگی کے متعلق حکومت نے تاحال کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکولس میں جماعتوں کے انعقاد پر بھی کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا کہ آیا کلاسیس فزیکل اٹینڈنس کے لحاظ سے منعقد کی جائیں گی یا پھر آن لائن ذریعہ تعلیم کو جاری رکھا جائے گا چونکہ ان حالات میں نصاب کی تکمیل امتحانات کے انعقاد کیلئے اہم رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر مارچ کے بجائے اپریل کے آخری ہفتہ میں امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ درحقیقت سرکاری مدارس میں جنوری کے آخری ہفتہ تک 60 فیصد نصاب کی تکمیل ہونی چاہئے تھی لیکن صرف 50 فیصد نصاب کی تکمیل ہونے کا عہدیدار دعویٰ کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں اسکولس کی دوبارہ کشادگی کے بعد بھی فروری کے دوسرے ہفتہ میں کلاسیس کا آغاز ہونے کے بھی کم امکانات پائے جاتے ہیں۔ سائنس، ریاضی اور سماجی علم کے اہم ترین مضامین کی تکمیل اور اس کے ریویژن کی تکمیل کے بعد ہی طلبہ آسانی سے امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں۔ نصاب کی عدم تکمیل اور سنکرانتی کی تعطیلات کا تعلیم پر اثر پڑنے کا اساتذہ خیال ظاہر کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے دسویں جماعت کے امتحانات کی فیس داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع کرنے سے ڈائرکٹر آف اسکولس ایجوکیشن نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ دراصل 29 جنوری کو فیس ادخال کی آخری تاریخ مقرر تھی۔ تعطیلات میں توسیع کے سبب اساتذہ کی عدم دستیابی اور یونینوں کی نمائندگی پر توسیع کا امکان ہے۔ع